ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو کہاں دفن کیا جائیگا؟ محسنِ پاکستان کی آخری خواہش بھی سامنے آگئی

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )ڈاکٹر عبدالقدیر خان طویل علالت کے بعد آج صبح 85 برس کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں جس پر پوری قوم افسردہ ہے ، ان کی سرکاری اعزاز کے ساتھ نماز جنازہ اور تدفین کیلئے انتظامات شروع کر دیئے گئے ہیں ۔تفصیلات کے مطابق ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی وصیت کے مطابق ان کی تدفین سیکٹر ایچ 8 قبرستان میں کی جائے گی اور اس حوالے سے اسلام آباد کی انتظامیہ نے انتظامات شروع کر دیئے ہیں ۔ نماز جنازہ کی ادائیگی فیصل مسجد میں دو پہر ساڑھے تین بجے کی جائے گی جہاں سیکیورٹی انتظامات کا آغاز کر دیا گیاہے

جبکہ مسجد کو کلیئر کیا جارہاہے ۔ڈاکٹر عبدالقدیر کو آج صبح چھ بجے پھیپھڑوں میں تکلیف اور سانس لینے میں دشواری کے باعث آر ایل ہسپتال منتقل کیا گیا تھا لیکن ان کی طبیعت سنبھل نہ پائی اور وہ انتقال کر گئے ۔وزیراعظم نے ٹویٹ کیا کہ ڈاکٹرعبدالقدیر کی خدمات نے بڑے جوہری ملک کی جارحیت سے پاکستان کو محفوظ رکھا۔پاکستانی عوام کے لیے وہ ایک قومی ہیرو تھے۔ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے پر پوری قوم ان سے محبت کرتی ہے۔اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے کہا ہے کہ آج قوم ایک سچے محسن سے محروم ہو گئی ہے۔ ڈاکٹرعبدالقدیر خان نے دل و جان سے مادر وطن کی خدمت کی۔انہوں نے کہا ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا انتقال ملک کے لیے بہت بڑا نقصان ہے۔ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے میں ان کا کردار مرکزی ہے۔ اللہ ان کی روح پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے۔چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی اور تمام سروسز چیفس نے بھی پاکستان کے معروف سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی وفات پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ڈاکٹر قدیر نے پاکستان کے دفاع کو مضبوط بنانے کے لے گرانقدر خدمات سر انجام دیں۔ اللہ تعالی مرحوم کے درجات بلند کرے۔سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے ڈاکٹرعبدالقدیر خان کے انتقال پر اظہارافسوس کرتے ہوئے کہا کہ وہ محسن پاکستان ہیں۔ ملک کو ایٹمی پروگرام دےکر ڈاکٹر عبدلقدیر خان نے قوم پر احسان کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں