سابق آئی جی پنجاب کا موٹروے پر پولیس کی تعیناتی کیلئے 2 ماہ قبل لکھا گیا خط منظر عام پر آگیا

لاہور (نیوز ڈیسک) لاہورسیالکوٹ موٹروے پر خاتون سے زیادتی کے واقعے نے جہاں موٹروے پر سکیورٹی کی صورتحال پر سوالات اٹھائے وہیں اب ایک اہم خبر سامنے آئی ہے۔بتایا گیا ہے کہ سابق آئی جی پنجاب کا موٹروے پر سیکیورٹی کیلئے خط منظرعام پرآگیا ہے۔ شعیب دستگیر نے سیکیورٹی کیلئے 28 جولائی کوخط لکھا تھا۔لیکن 2 ماہ کے بعد بھی موٹروے پر پولیس تعینات نہ ہوسکی، وفاقی سیکریٹری مواصلات نے آئی جی کے خط پر کوئی ایکشن نہیں لیا تھا۔اس سے واضح ہے کہ سابق آئی جی پنجاب موٹروے پر سیکیورٹی صوتحال سے واقف تھے یہی وجہ ہے کہ انہوں نے سیکیورٹی کے لیے خط بھی

لکھا لیکن وفاقی سیکریٹری مواصلات نے آئی جی کے خط پر کوئی ایکشن نہ لیا،جس کے نتیجے میں دو روز قبل خاتون کے ساتھ ایک ہولناک واقعہ پیش آیا۔سیکیورٹی نہ ہونے کی وجہ سے خاتون موٹروے پر زیادتی کا نشانہ بن گئی۔گذشتہ رات بھی موٹروے پر ڈکیتی کا ایک واقعہ پیش آیا تھا۔لاہور اسلام آباد موٹروے پر ڈاکوؤں نے ناکہ لگا کر کئی مسافروں کو لوٹ لیا تھا۔ یہ واقعہ شیخوپورہ سے 3 کلومیٹر دور پیش آیا جہاں ڈاکوؤں نے سڑک پر درخت گرا کر اسے بلاک کیا ہوا تھا۔ جب راہ گیر سڑک پر موجود درخت ہٹانے کے لیے گاڑیوں سے اترتے تو ملزمان ان کو لوٹنا شروع کر دیتے تھے۔ ڈاکو گاڑیوں کے ٹائروں پر فائرنگ کرتے اور مسافروں سے لوٹ مار کرتے رہے لیکن موٹروے پولیس مدد کو نہ پہنچ سکی۔اس واقعہ کے دوران بھی موٹروے پولیس کا رویہ پہلے جیسا ہی رہا اور جائے وقوعہ پر نہ پہنچ سکی۔ میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ مسافروں نے موٹروے پولیس کو اطلاع بھی دی جس پر ان کا کوئی رد عمل سامنے نہ آیا۔ اس بھیانک واردات کا اختتام ڈرامائی انداز میں اس وقت ہوا جب وہاں پر اچانک ایمبولینس آ گئی، ایمبولینس کو پولیس کی گاڑی سمجھ کر ملزمان رفو چکر ہو گئے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.