پاکستان امریکہ کو افغانستان کے فوجی حل کی نا کامی پر خبردار کرتا رہا، معید یوسف

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے قومی سلامتی معید یوسف نے کہا ہے کہ پاکستان کو امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف جنگ کی بھاری قیمت چکانی پڑی ، پاکستان امریکہ کو افغانستان کے فوجی حل کی نا کامی پر خبردار کرتا رہا ، افغانستان میں بدامنی کے افغان عوام پر تباہ کن اثرات ہوں گے، اس سے پاکستان اور پڑوسی ممالک بھی اثر انداز ہوں گے۔تفصیلات کے مطابق امریکی جریدے فارن افیئرز میں شائع ہونے والے مضمون میں لکھا کہ افغان جنگ کا کوئی فوجی حل موجود نہیں تھا ، اسی زمین میں 50 سے زائد عسکریت پسند گروہوں نے جنم لیا، دہشت گردوں کے گروہوں

نے پاکستانی ریاست کو امریکہ کے ساتھ تعاون کرنے پر نشانہ بنایا ، ہم آج بھی تقریبا 40 لاکھ افغان مہاجرین کی میزبانی کررہے ہیں ، بین الاقوامی برادری کو کابل میں نئی ​​حکومت کے ساتھ مشاورت کے زریعے آگے بڑھنا چاہئے، بین الاقوامی برادری کو امن واستحکام کے حصول کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کرنا چاہیے ، افغانستان سے لا تعلقی پاکستان کے لیے آپشن نہیں، افغانستان میں استحکام وسطی ایشیا کے ساتھ علاقائی رابطے کے لیے اہم ہے۔علاوہ ازیں ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار نے کہا ہے کہ امریکی نائب وزیر خارجہ پاکستان کا دو روزہ دورہ کر یں گی ، دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ مفادات پر مبنی تعلقات ہیں ، پاکستان اور امریکہ ایشیاء میں امن کے خواہاں ہیں ، پاکستان افغانستان میں دیرپا استحکام کا خواہاں ہے اور دونوں ممالک افغانستان کے حوالے سے ایک نقطہ نظر رکھتے ہیں ، پاکستان اور امریکہ کے درمیان دوطرفہ مفادات پر مبنی تعلقات ہیں ، کانگریس میں ہونے والی سماعت امریکا کی سرکاری پوزیشن کی عکاسی نہیں کرتی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں