کیس کا فیصلہ دے کر میری زندگی آسان کردیں،گلوکار و اداکار علی ظفر کی عدالت سے اپیل

لاہور( نیوز ڈیسک) پاکستان کے گلوکار اور اداکار علی ظفر نے عدالت سے اپیل کہ کیس کو ختم کر کے میری زندگی آسان بنا دیں۔ تفصیلات کے مطابق لاہور کے جوڈیشل مجسٹریٹ نے علی ظفر کی مدعیت میں درج ایف آئی اے کے مقدمے کی سماعت کی۔ مجسٹریٹ یوسف عبدالرحمٰن نے کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت عدالت کے طلب کرنے پر علی ظفر عدالت میں پیش ہوئے اور بیان دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کے بلانے پر وہ فوراً پیش ہوئے لیکن دوسری پارٹی 3 سال سے پیش نہیں ہو رہی۔انہوں نے عدالت سے استدعا کرتے ہوئے کہا کہ میری جانب سے میشا شفیع، علی گل پیر اور عفت عمر سمیت

دیگر افراد کے سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مہم چلانے کے کیس کا فیصلہ سنا کر ان کی زندگی آسان کی جائے۔ دوسری جانب علی ظفر نے مذکورہ کیس میں علی گل پیر کی جانب سے پیش کیے گئے میڈیکل سرٹیفکیٹ کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے عدالت میں درخواست بھی دائر کی۔جس پر عدالت نے علی ظفر کی درخواست کا نوٹس لیتے ہوئے علی گل پیر کے میڈیکل سرٹیفکیٹ سے متعلق نوٹسز جاری کیے۔ عدالت نے میشا اور ماہم کی جانب سے حاضری معافی کی درخواستیں ناقابل سماعت قرار دے کر نمٹا دیں۔ اور مجسٹریٹ نے آئندہ سماعت پر ملزمان فیشن بلاگر حمنہ رضا اور ماہم جاوید کو طلب کر لیا۔ عدالت نے دونوں کو آئندہ ماہ 8 نومبر کو پیش ہونے کا حکم دیا۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ میشا شفیع اور ماہم جاوید سماعتیں شروع ہونے سے اب تک ایک بار پھر عدالت میں پیش نہیں ہوئیں، اس لیے ان کی درخواست ان کی غیر موجودگی میں نہیں سنی جا سکتی۔ جبکہ ملزمہ فریحہ ایوب کی ذاتی پیشی سے استثنیٰ کی درخواست کی بھی منظوری دی۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق میجسٹریٹ نے اسی کیس میں علی گل پیر کی جانب سے دائر کی گئی اپنی گرفتاری کے احکامات کو منسوخ کرنے کی درخواست بھی منظور کی۔ عدالت کی جانب سے علی گل پیر کے وارنٹ گرفتاری ان کی مسلسل عدالت پیشی سے مشروط کی گئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں