لاہور میں قبضہ مافیا کیخلاف آپریشن ، اربوں روپے کی سرکاری اراضی واگزارکروالی گئی

لاہور ( نیوز ڈیسک) قبضہ مافیا کے خلاف اینٹی کرپشن پنجاب ، محکمہ مال اور پولیس نے بڑا کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 2 ارب 30 کروڑ 91 لاکھ روپے کی سرکاری اراضی واگزار کرالی۔ تفصیلات کے مطابق ڈی جی اینٹی کرپشن نے بتایا ہے کہ محکمہ اینٹی کرپشن کی سورس رپورٹ کی بنیاد پر اربوں روپے کی سرکاری اراضی واگزار کرائی گئی ، جس کی مجموعی مالیت 2 ارب 30 کروڑ 91 لاکھ روپے بتائی گئی ہے جب کہ قابضین اور محکمہ مال کے افسران کے خلاف 3 مقدمات درج کر لیے گئے۔دوسری طرف لاہور کی ایک سول عدالت نے جاتی امرا کی 127 کنال اراضی کے کیس میں مریم نواز

کے گھر کے باہر نوٹس آویزاں کرنے کا حکم دے دیا ، تعمیل کنندہ نے عدالت میں مؤقف اپنایا کہ اے سی رائیونڈ نے حقائق کے برعکس زمین کے انتقال منسوخ کیے ، مریم نواز کی رہائش گاہ پر نوٹسز بھی وصول نہیں کیے جا رہے ، سول کورٹ لاہور نے تعمیل کنندہ کو احکامات جاری کیے کہ مریم نواز کے گھر کے باہر نوٹس آویزاں کرکے تصویر بنا کر پیش کی جائے۔لاہور کی سول عدالت میں ایک درخواست گزار نے استدعا کی کہ شریف خاندان نے جاتی امرا میں اس کے آباؤ اجداد کی اراضی پرغیر قانونی قبضہ کیا ہے۔ نیب بھی مریم نواز سے رائیونڈ میں خلاف قانون اراضی سستے داموں خریدنے کی تفتیش کرتا رہا ہے، عدالت نے یوسف عباس اور اس کے بھائی عبدالعزیزعباس سے جواب طلب کرلیا ، سول جج محمد عمران عاشق نے تحریری حکم جاری کر دیا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ تحصیل رائے ونڈ میں 127 کنال اراضی شریف خاندان کے مرکزی گھر کا حصہ ہے اور ریونیو ریکارڈ میں نواز شریف کی والدہ شمیم بیگم کا نام درج ہے ، بورڈ آف ریونیو پنجاب نے اراضی کا انتقال منسوخ کرکے رقبہ بحق سرکار ضبط کیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں