میری کسی بات کا مطلب خاتون کو مورد الزام ٹھہرانا نہیں تھا، سی سی پی اولاہور

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)سی سی پی او لاہور عمر شیخ کا لاہور موٹروے زیادتی کیس کی متاثرہ خاتون فرانس کی رہائشی ہے، پاکستان کو بھی فرانس جیسا محفوظ ملک سمجھ کر دیر رات کو سفر کرنے نکل پڑی، میری کسی بات کا مطلب خاتون کو مورد الزام ٹھہرانا نہیں تھا۔ تفصیلات کے مطابق سی سی پی او لاہور عمر شیخ کی جانب سے لاہور موٹروے زیادتی کیس کے حوالے سے جمعرات کے روز ردعمل دیتے ہوئے بیان دیا گیا کہ خاتون ساڑھے 12 بجے ڈیفینس سے گجرانوالہ کے لیے نکلیں۔میں حیران ہوں کہ 3 بچوں کی والدہ اتنی رات کو اکیلے سفر پر نکل رہی ہیں۔اگر آپ ڈیفنس سے نکلی ہیں تو پھر جہاں آبادی

ہے وہاں چلی جاتی۔اگر آپ اس طرف سے نکلی ہیں تو کم از کم گاڑی کا پٹرول چیک کر لیتیں۔ اس بیان کے بعد عمر شیخ شدید تنقید کی زد میں تھے۔اپنے اس بیان کے حوالے سے سی سی پی او لاہور نے وضاحت جاری کی ہے۔ عمر شیخ کا بتانا ہے کہ متاثرہ خاتون اور ان کے اہل خانہ فرانس میں رہتے ہیں۔فرانس کا معاشرہ ایک محفوظ معاشرہ ہے۔ خاتون پاکستان کو بھی فرانس جیسا محفوظ ملک سمجھ کر دیر رات کو سفر کرنے نکل پڑیں۔ عمر شیخ کا کہنا ہے کہ ان کے بیان کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ خاتون کو مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں، بلکہ وہ خواتین کو خبردار کرنا چاہتے تھے کہ ہمارا معاشرہ محفوظ نہیں ہے، اس لیے خواتین کو بچیوں کو زیادہ احتیاط کرنی چاہیئے۔واقعے کے حوالے سے سی سی پی او نے مزید بتایا ہے کہ جیسے ہی خاتون نے ٹول پلازہ کراس کیا تو زرا آگے جا کے ان کی گاڑی میں پٹرول ختم ہو گیا۔رات کے3 بجے ان کی گاڑی سے پٹرول ختم ہو گیا۔جس کے بعد یہ واردات ہوئی،اس کے بعد خاتون نے 15پر کال کرنے کی بجائے بھائی کو کال کی۔ہمارے پاس اطلاع رات کو 3 بج کر 5منٹ پر آئی۔ایک شخص نے دیکھا کہ دو لوگ خاتون کو گاڑی سے زبردستی نکال رہے ہیں،ہماری ٹیم 25منٹ کے اندر پہنچی لیکن بدقسمتی سے تب تک یہ واقعہ رونما ہو چکا تھا۔ہم نے فوری طور پر فرانزک ٹیم کو بلایا۔ سی سی پی او عمرشیخ نے مزید کہا کہ جلد معاملے کی تہہ تک جائیں گے۔ 48 گھنٹوں میں ملزمان تک پہنچ جائیں گے۔14 افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.