طالبعلم بدفعلی کیس، مرکزی ملزم مفتی عزیزالرحمان سمیت7 ملزمان انجام کو پہنچ گئے

لاہور(نیوز ڈیسک)لاہور کی مقامی عدالت نے بدفعلی کیس کے مرکزی ملزم مفتی عزیزالرحمان سمیت7 ملزمان پر فرد جرم عائد کردی ہے، تمام ملزمان نے صحت جرم سے انکار کیا ہے، عدالت نے آئندہ سماعت پر استغاثہ کے گواہان کو طلب کرلیا۔ تفصیلات کے مطابق لاہور کی مقامی عدالت میں مدرسے میں طالبعلم کے ساتھ بدفعلی کے کیس کی سماعت ہوئی، سماعت کے دوران عدالت نے مرکزی ملزم مفتی عزیزالرحمان اور بیٹوں سمیت7 ملزمان پر فرد جرم عائد کردی ہے۔تاہم مرکزی ملزم مفتی عزیزالرحمان سمیت تمام ملزمان نے صحت جرم سے انکار کردیا ہے۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر استغاثہ کے گواہان کو طلب کرلیا ہے۔

یاد رہے 18 ستمبر کو مدرسے کے طالبعلم سے زیادتی کیس میں گرفتار ملزم مفتی عزیز الرحمان نے ضمانت کے لیے سیشن کورٹ سے رجوع کیا تھا، جس پر عدالت نے پولیس سے 20 ستمبر کو مقدمے کا ریکارڈ طلب کیا۔اسی طرح اس سے چار روز قبل لاہور کی مقامی عدالت نے مدرسے کے طالب علم سے زیادتی کے ملزم مفتی عزیز الرحمان کی ضمانت پر رہائی کی درخواست خارج کر دی تھی۔مفتی عزیز الرحمان کی نازیبا ویڈیو لیک ہونے پر پولیس نے بدفعلی کا شکار ہونے والے نوجوان صابر شاہ کی درخواست پر مقدمہ درج کیا تھا، طالبعلم صابر شاہ کی مدعیت میں درج کئے گئے مقدمات میں 337 اور 506 کی دفعات شامل کی گئیں۔مقدمے میں یہ الزام لگایا گیا تھا کہ مفتی عزیز الرحمان نے اسے امتحانات میں فیل کرکے بلیک میل کیا ، امتحانات میں پاس کروانے کا لالچ دے کر مبینہ طور پر کئی ماہ تک بد فعلی کی، شکایات کرنے پر اس کی کوئی شنوائی نہ ہوئی۔ ویڈیو وائرل ہونے پر پولیس نے مفتی عزیزالرحمان، ان کے تین بیٹے اور تین نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا جس کے بعد پولیس نے مفتی عزیز الرحمان اور ان کے ایک بیٹے کو گرفتار کرلیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں