سی سی پی او لاہورعمر شیخ کو عہدے سے ہٹانے کے مطالبے پر پنجاب حکومت کا موقف سامنے آگیا

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)لاہور موٹروے زیادتی کیس، خاتون سے متعلق متنازعہ بیان دینے پر وفاقی حکومت کی جانب سے سی سی پی او لاہور کی سرزنش، جبکہ وزیر قانون پنجاب راجہ بشارت کا کہنا ہے کہ عمر شیخ کی جانب سے خاتون سے متعلق دیا گیا بیان افسوسناک ہے، انہیں عہدے سے ہٹانے کے فیصلے کا اختیار وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے پاس ہے۔تفصیلات کے مطابق سی سی پی او لاہور عمر شیخ کے لاہور زیادتی کیس کی متاثرہ خاتون کے حوالے سے دیے گے متنازعہ بیان پر وفاقی اور پنجاب حکومت نے ردعمل دیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی شہزاد

اکبر کی جانب سے سی سی پی او لاہور عمر شیخ کی سرزنش کی گئی ہے۔ سی سی پی او لاہور کے وفاقی حکومت کے تحفظات سے آگاہ کیا گیا ہے۔جبکہ پنجاب حکومت نے بھی عمر شیخ کے بیان کو افسوسناک قرار دیا ہے۔ عوام کی جانب سے سی سی پی او لاہور عمر شیخ کو عہدے سے ہٹائے جانے کے مطالبے پر وزیر قانون پنجاب راجہ بشارت نے بیان جاری کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عمر شیخ کا بیان افسوسناک ہے۔ سی سی پی او لاہور کو عہدے سے ہٹائے جانے کا اختیار وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے پاس ہے۔ وہی اس حوالے سے حتمی فیصلہ کر سکتے ہیں۔دوسری جانب سی سی پی او لاہور نے وضاحت جاری کی گئی ہے۔ عمر شیخ کا بتانا ہے کہ متاثرہ خاتون اور ان کے اہل خانہ فرانس میں رہتے ہیں۔ فرانس کا معاشرہ ایک محفوظ معاشرہ ہے۔ خاتون پاکستان کو بھی فرانس جیسا محفوظ ملک سمجھ کر دیر رات کو سفر کرنے نکل پڑیں۔ عمر شیخ کا کہنا ہے کہ ان کے بیان کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ خاتون کو مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں، بلکہ وہ خواتین کو خبردار کرنا چاہتے تھے کہ ہمارا معاشرہ محفوظ نہیں ہے، اس لیے خواتین کو بچیوں کو زیادہ احتیاط کرنی چاہیئے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.