امریکا میں مہنگائی کی شرح 30 سال اور یورپ میں مہنگائی کی شرح 13 سال کی بلند ترین سطح پر ہے

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر نے کہا ہے کہ ساری دنیا میں کورونا کی بندشیں مہنگائی کا سبب بن گئی ہیں، امریکا میں مہنگائی کی شرح 30 سال اور یورپ میں مہنگائی کی شرح 13 سال کی بلند ترین سطح پر ہے۔ لیکن آج بننے والی موٹرویز اور سڑکیں ن لیگی دور سے سستی ہیں۔ انہوں نے ٹویٹر پر اپنے بیان میں کہا کہ ساری دنیا میں کورونا کی بندشیں مہنگائی کا سبب بن گئی ہیں، امریکا میں مہنگائی کی شرح 30 سال اور یورپ میں مہنگائی کی شرح 13 سال کی بلند ترین سطح پر ہے۔لیکن نون لیگ دور کے مہنگے کارناموں کی وجہ سے 2021 میں پاکستان میں بننے والی

موٹرویز اور سڑکیں 2013 کے داموں سے بھی سستی ہیں۔ دوسری جانب گزشتہ روز ادارہ شماریات نے ماہانہ بنیاد پر مہنگائی کے اعدادو شمار جاری کیے ہیں جن میں کہا گیا کہ ستمبر2021 میں مہنگائی کی شرح میں ریکارڈ 2.12 فیصد کا اضافہ ہوا ہے، جس سے ستمبر2020 کے مقابلے میں ستمبر2021 میں مہنگائی کی شرح 8.98 فیصد ہوگئی ہے۔جولائی سے ستمبر تک مہنگائی کی شرح 8.58 فیصد رہی، ستمبر میں شہروں میں مہنگائی کی شرح 9.13 فیصد اور دیہاتوں میں مہنگائی کی شرح 8.77 فیصد رہی۔ ستمبر میں شہروں میں مہنگائی میں 2 فیصد اضافہ ہوا۔ دیہاتوں میں 2.29 فیصد اضافہ ہوا۔ ایک ماہ میں شہروں میں چکن 42 فیصد، پیاز 32، دال مسور15.70 فیصد مہنگی ہوئی، انڈے 14.43 فیصد، آٹا 9.69، گندم 7.31 فیصد مہنگی ہوئی، چنے 6 فیصد، دال چنا 4.33، سبزیاں 4 اور چینی 3 فیصد مہنگی ہوئی، ٹماٹر 18.90 فیصد، دال مونگ 4 اور آلو 2.62 فیصد سستے ہوئے۔ایک سال میں چکن 44.63 فیصد، خوردنی تیل 40، انڈے 35 اور چینی 15.26 فیصد مہنگی ہوئی، ایک سال میں آٹا 19.32 فیصد، دالیں 18 سے 12 فیصد اور پیاز 14 فیصد مہنگا ہوا۔ ادارہ شماریات نے اپنے اعدادوشمار میں بتایا کہ ایل پی جی 54 فیصد، بجلی 22.36، موٹر فیول 17.55 فیصد مہنگا ہوا،آلو 26 فیصد، ٹماٹر اور دال مونگ 23 اور سبزیاں 14 فیصد سستی ہوئیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں