وزیراعظم عمران خان کا ترک ٹی وی کودبنگ انٹرویو

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ افغانستان مسئلہ پر ہمیشہ ایک ہی موقف رہا کہ طاقت مسئلے کا حل نہیں۔ حکومت کالعدم ٹی ٹی پی میں کے کچھ گروپوں سے رابطے میں ہے۔ تُرک ٹی وی کو دئے گئے انٹرویو میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کالعدم ٹی ٹی پی اگر وہ ہتھیارڈال دیں تو انہیں معاف کیا جا سکتا ہے۔کالعدم ٹی ٹی پی سے بات چیت افغان طالبان کے تعاون سے افغانستان میں ہو رہی ہے۔ افغان طالبان کے اس معاملے میں مدد کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بات چیت افغانستان میں جاری ہے اس لیے کہا جاسکتا ہے کہ وہ مدد کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم ان کے ہتھیار ڈالنے کے بعد انہیں معاف کردیں گے جس کے بعد وہ عام شہریوں کی طرح رہ سکیں گے۔افغانستان کی صورتحال سے متعلق بات کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اس مرتبہ ہم خوفزہ تھے کہ کابل پر قبضی کرتے وقت خونریزی ہو گی۔ لیکن اس حد تک تو غیر متوقع طور پر اختیارات کا انتقال بہت پُر امن ہوا۔ تاہم اب مسئلہ سر پر لٹکتا یہ انسانی بحران ہے۔ کیونکہ افغان حکومت کا اپنے بجٹ کے لیے 70 سے 75 فیصد انحصار بیرونی امداد پر تھاجیسے ہی بیرونی امداد والا جزو نکل جاتا ہے جس کا لوگوں کو خدشہ ہے کہ طالبان کے آنے کے بعد بیرونی امداد ختم ہو جائے گی ، طویل مدت کے لیے تو شاید طالبان اپنے پاؤں پر کھڑے ہو جائیں گے لیکن اگر فوری طور پر انہیں امداد فراہم نہیں کی جاتی تو اس بات کا خطرہ ہے کہ وہاں حکومت گر جائے گی اور افراتفری پھیلے گی جس کے نتیجے میں انسانی بحران جنم لے گا۔انہوں نے کہا کہ میں فوجی حل میں یقین نہیں رکھتا، میں عراق، افغانستان اور حتٰی کہ اپنے ملک میں طاقت کے استعمال کا مخالف رہا۔ ہم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں انسانی جانوں کی قربانیاں دیں مگر تسلیم نہیں کیا گیا۔ سیاست دان ہونے کے طور پر سیاسی مذاکرات کو ہی آگے کا راستہ سمجھتا ہوں جیسا میں نے افغانستان کے بارے میں بھی کہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کوغیر ملکی امداد نہ ملی تو حکومت گرجائے گی اورافراتفری پیدا ہوگی، افغانستان میں افراتفری کا عالم ہو گا تو نقصان افغان عوام کا ہی ہو گا۔ہمیں مسئلے کا حل نکالنا ہو گا ، اور افغانستان کی عوام کے بارے میں سوچنا ہو گا۔

اس بات کا بہت زیادہ انحصار اس بات پر ہے کہ بین الاقوامی برادری طالبان کی حکومت تسلیم کرتی ہے یا نہیں۔ مذاکرات ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔ افغانستان نے کبھی بیرونی طاقتوں کو تسلیم نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ طالبان حکومت کو تسلیم کرنے سے متعلق ہمسایہ ممالک سے بات چیت جاری ہے لیکن سوال یہ ہے کہ امریکہ کب طالبان کو تسلیم کرے گا ؟ افغانستان میں نئی حکومت کو تسلیم کرنے سے متعلق سوال کے جواب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان اورافغانستان کی تاریخ کا قریبی تعلق ہے۔ہم امن کے لیے بات چیت پر یقین رکھتے ہیں۔ہم افغانستان کے تمام ہمسایہ ممالک کی

مشاورت سے طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کا فیصلہ کریں گے۔ ان سے مشورہ کریں گے کہ طالبان کی حکومت کب تسلیم کی جائے ؟ کیونکہ پاکستان اگر تنہا طالبان کو تسلیم کر بھی لے تو اس سے زیادہ فرق نہیں پڑے گا۔ ترجیحاً تو یہ ہونا چاہئیے کہ امریکہ ، یورپ ، چین اور روس بھی ان کی حکومت کو تسلیم کرے۔تاہم اگر تمام ہمسائے مل کر ، جو افغانستان میں افراتفری ہونے پر سب سے زیادہ متاثر ہوں گے ، اگر ہم سب مل کر ایک مشترکہ لائحہ عمل تشکیل دیتے ہیں کہ انہیں کب تسلیم کرنا ہے تو ایسا کرنے سے پاکستان کے اکیلے انہیں تسلیم کرنے سے زیادہ اثر پڑے گا۔ جس پر اینکر نے سوال

کیا کہ کیا یہ پاکستان کے لیے مشکل صورتحال نہیں ہے کیونکہ جب تک طالبان کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا جاتا انسانی بنیادوں پر امداد اور افغانستان کی حکومت کے لیے بیرون ملک منجمد ذخائر، یہ سب تو جاری نہیں ہو سکیں گے۔جس پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ امریکہ طالبان کی حکومت کو کب تسلیم کرے گا ؟ جس پر اینکر نے سوال کیا کہ کیا آپ توقع کر رہے ہیں کہ امریکہ طالبان کی حکومت کو تسلیم کر لے گا؟ جس کے جواب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ امریکہ کو بھی جلد یا بدیر طالبان حکومت کوتسلیم کرنا ہوگا۔ اس وقت تو جیسا کہ آپ دیکھ

سکتے ہیں ان کے سینیٹ میں جو سماعت ہوئی ، ان کے میڈیا میں دیکھیں ، امریکہ صدمے اور تذبذب کا شکار ہے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ افغان سرحد کے دونوں جانب پشتون قبائل قیام پذیر ہیں۔ انہوں نے انٹرویو کے دوران کہا کہ پشتون روایت میں انتقام عام بات ہے ،کوئی ان کے گھرمیں گھس کر مارےتو وہ ردعمل تودیں گے۔ افغانستان میں پشتون بڑی تعداد میں آباد ہیں۔ مذاکرات ہونے کے باوجود سکیورٹی فورسز پر ٹی ٹی پی کے حملوں کے حوالے سے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ہم بات چیت کر رہے ہیں، ہوسکتا ہے کہ کوئی نتیجہ نہ نکل سکے، مگر ہم بات کر رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں