وزیراعظم عمران خان نے شوکت ترین کو سینیٹر منتخب کروانے کا فیصلہ کر لیا

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین کو سینیٹر بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ شوکت ترین کو سینیٹر بنایا جائے گا۔ وزیراعظم عمران خان نے شوکت ترین کو سینیٹر بنانے کی منظوری دے دی ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ کسی بھی غیر منتخب شخص کے لیے وفاقی وزیر رہنے کے لیے چھ ماہ میں رکن پارلیمنٹ بننا لازمی ہے۔شوکت ترین کی آئینی مدت اگلے ماہ اکتوبر کے دوسرے ہفتے میں ختم ہو رہی ہے۔ شوکت ترین بطور وزیر کام جاری رکھیں اس کے لیے ان کو سینیٹر منتخب کروانا ایک قانونی تقاضا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ شوکت ترین کو خیبرپختونخواہ سے سینیٹ کی نشست پر منتخب کروایا جائے گا تاہم شوکت ترین کو سینیٹر منتخب کروانے کے لیے خیبرپختونخواہ سے کون سا سینیٹر استعفی دے گا اس حوالے سے فیصلہ آئندہ دو دن میں ہو گا۔یاد رہے کہ گذشتہ روز یہ خبر موصول ہوئی تھی کہ وفاقی حکومت، شوکت ترین کو پنجاب سے سینیٹر اسحاق ڈار کی نشست پر سینیٹر منتخب کروانے کے لیے اپنے منصوبے کا اعلان کرے گی۔ یہ نشست مسلم لیگ ن کے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی غیر موجودگی کی وجہ سے تاحال خالی ہے اور اسحاق ڈار نے برطانیہ میں خود ساختہ جلاوطنی کی وجہ سے سنیٹ کی نشست کا حلف بھی نہیں اٹھایا۔لیکن سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی نشست سے شوکت ترین کا انتخاب غیر یقینی ہے کیونکہ یہ عدالتوں میں چیلنج ہوسکتا ہے اور حکم امتناع مل سکتا ہے۔ذرائع کا کہنا تھا کہ اگر انتخاب کے عمل میں کچھ وقت بھی لگتا ہے تب بھی کوئی فرق نہیں آئے گا کیونکہ شوکت ترین کو پانچ روز کے لیے مشیر خزانہ بنایا جائے گا اور پھر وہ سینیٹر اور وزیر خزانہ کا حلف اٹھائیں گے۔جبکہ شوکت ترین کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ وزیر خزانہ کی پیر کو وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات ہوئی تھی جس میں انہیں سینیٹر منتخب کروانے کے لیے منصوبے کے فوری اعلان کا فیصلہ کیا گیا۔ وفاقی حکومت کی پہلی ترجیح شوکت ترین کو اسحاق ڈار کی نشست پر سینیٹر منتخب کروانا ہے تھا لیکن قانونی پیچیدگیوں اور غیر یقینی کی صورتحال کی وجہ سے پلان ”بی” کے تحت خیبر پختونخواہ سے سینیٹ کی نشست خالی کروا کر انہیں

وہاں سے منتخب کروایا جائے گا۔ خیبر پختونخواہ سے اپنی نشست خالی کرنے والے سینیٹر سے کچھ دیگر سیاسی ایڈجسٹمنٹ کے ذریعے تلافی کی جائے گی کیونکہ حکومت، شوکت ترین کے مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی کی متحمل نہیں ہوسکتی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں