عمران خان کا عالمی طاقتوں سے غریب ملکوں کے 7ہزارارب ڈالرز کی واپسی کا مطالبہ

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے عالمی طاقتوں سے ترقی پذیرممالک کے 7ہزار ارب ڈالروں کی واپسی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ منی لانڈرنگ کے ذریعے ترقی پذیرممالک کے 7 ہزارارب ڈالر”محفوظ معاشی پناہ گاہوں“ میں چھپائے گئے ہیں. اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 76ویں اجلاس سے ورچوئل خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ منی لانڈرنگ کے باعث ترقی پذیرممالک میں غربت میں اضافہ ہوتا ہے انہوں نے کہا کہ منی لانڈرنگ کے نتیجے میں ان ملکوں کی کرنسی پر دباؤ پڑتا ہے اوراس کی قدر میں کمی ہوتی ہے جو کچھ ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہندوستان کے ساتھ کیا وہی کچھ

ترقی پذیر ملکوں کے ساتھ ان کی بدعنوان اشرافیہ کر رہی ہے.عمران خان نے کہا کہ اشرافیہ ترقیہ پذیر ملکوں سے دولت لوٹ رہے ہیں اور اسے امیرملکوں کے دارلحکومتوں میں منتقل کر رہے ہیںانہوں نے کہا کہ غیر قانونی طور پر حاصل شدہ یہ دولت ترقی پذیر ملکوں کے عام عوام کی ملکیت ہے میں دیکھ سکتا ہوں کہ مستقبل قریب میں ایک وقت آئے گا جب امیر ملکوں کو ان غریب ملکوں سے معاش کیلئے بڑی تعداد میں ہجرت کرنے والوں کو روکنے کیلئے دیواریں تعمیر کرنا پڑ جائیں گی.انہوں نے کہا کہ مجھے خوف ہے کہ غربت کے سمندر میں چند امیر جزیرے ایسے ہی ایک عالمی آفت کی شکل اختیار کر لیں گے جیسا کہ موسمیاتی تبدیلی نے کی ہے عمران خان نے مطالبہ کیا کہ اس انتہائی بڑی معاشی نا انصافی کے خاتمے کیلئے انقلابی اقدامات کی ضرورت ہے. اپنے خطاب میں وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ افغانستان میں ہونے والی جنگ میں افغانوں کے بعد سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والا ملک پاکستان ہے لیکن بجائے پاکستانی مدد کی تعریف کرنے کے بجائے دنیا کی جانب سے پاکستان پر افغانستان کے واقعات کے حوالے سے الزام تراشی کی جاتی ہے.وزیر اعظم نے کہا کہ اگر عالمی برادری نے افغانستان کو پس پشت ڈال دیا تو نہ صرف مستقبل میں بہت سنگین نوعیت کے انسانی بحران کا سامنا کرنا پڑے گا جس کے اثرات افغانستان کے پڑوسی ممالک پر بھی پڑیں گے بلکہ ایک ‘غیر مستحکم اور بحران سے دوچار افغانستان ایک بار پھر بین الاقوامی دہشت گردوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن جائے گا. وزیر اعظم عمران خان نے افغانستان

کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ افغان عوام کی خاطر یہ لازمی ہے کہ موجودہ حکومت کو مستحکم کیا جائے اور اگر اب عالمی برادری ان کی حوصلہ افزائی کرتی ہے اور ان کے ساتھ بات چیت کرے تو یہ سب کے لیے کامیابی ہو گی.انہوں نے کہا کہ افغانستان کی عوام کو امداد کی اشد ضرورت ہے اور یہ ان کے لیے بہت نازک وقت ہے اور اسے ضائع نہیں کیا جاسکتا اور صرف اقوام متحدہ ہی عالمی برداری کو اس مقصد کے لیے متحرک کر سکتا ہے وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں کووڈ کی وبا، کرپشن، اسلامو فوبیا، ماحولیاتی تبدیلی کے موضوعات پر بات چیت کی تاہم ان کی تقریباً 25

منٹ تک طویل تقریر میں سب سے بڑا حصہ انڈیا اور افغانستان کے موضوعات پر رہا.وزیر اعظم عمران خان نے اپنی تقریر کا آغاز کووڈ کی وبا کے موضوع سے کیا اور جنرل اسمبلی کو پاکستان کے اقدامات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی حکومت نے ”سمارٹ لاک ڈاؤن“کی حکمت عملی استعمال کرتے ہوئے معیشت کے پہیے نہ صرف جاری رکھا بلکہ انسانی جانوں کو بھی محفوظ رکھنے میں کامیابی حاصل کی. ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ مضر گیسوں کے اخراج میں پاکستان کا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے لیکن اس کے باوجود پاکستان کا شمار دنیا کے ان

دس ممالک میں ہوتا ہے جو دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں انہوںنے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی، معاشی بحران اور کووڈ کی وبا کے تین طرفہ چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے دنیا کو ایک جامع منصوبہ بندی کرنا ضروری ہوگی.کرپشن کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ منی لانڈرنگ کے ذریعے ترقی پذیر ممالک کی رقم نکال کر دوسرے ممالک میں چلی جاتی ہے انہوں نے کہا کہ جو کچھ ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہندوستان کے ساتھ کیا وہی کچھ ترقی پذیر ملکوں کے ساتھ ان کی بدعنوان اشرافیہ کر رہی ہے انہوں نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ ایک ایسا

جامع قانونی فریم ورک تشکیل دیا جائے جس سے دولت کی غیر قانونی اڑان کو روکا جا سکے اور اس دولت کو واپس لوٹایا جائے.وزیر اعظم عمران خان نے اسلاموفوبیا کے موضوع پر بات کرتے ہوئے کہا کہ کچھ حلقوں کی جانب سےدہشت گردی کو اسلام سے جوڑا جاتا رہا ہے جس کے سبب انتہا پسند اور دہشت گرد گروہ مسلمانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں بھارت اور وہاں کی حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کو آڑے ہاتھ لیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ دنیا میں اسلامو فوبیا کی سب سے خوفناک اور بھیانک شکل بھارت میں ہے انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ بھارت میں اسلامی تاریخ اور ورثے کو مٹانے

کی کوششیں جاری ہیں.بے جی پی حکومت کی جانب سے پانچ اگست 2019 کو مقبوضہ کشمیر کی حیثیت کے خلاف لیے گئے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ بھارت نے نو لاکھ قابض فوج کے ذریعے خوف کی ایک لہرجاری کر رکھی ہے انہوں نے کشمیر کے معاملے پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی کارروائیاں صریح خلاف ورزی ہیں اور ان قرار دادوں میں یہ واضح طور پر درج ہے کہ اس مسئلہ کے حل صرف اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں کروائے گئے ایک شفاف اور آزادانہ استصوابِ رائے کے تحت ممکن ہے.وزیر

اعظم عمران خان نے افغانستان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور یورپ کے چند سیاستدان محض پاکستان پر الزام تراشی کرتے ہیں جبکہ نائن الیون کے بعد سے پیدا ہونے والی صورتحال کے باعث 80 ہزار سے زیادہ پاکستانی ہلاک ہوئے ہماری معیشت کو 150 ارب ڈالر کا نقصان ہوا اور پاکستان سے 35 لاکھ افراد بے گھر ہوئے. عمران خان نے 80 کی دہائی میں افغان مجاہدین اور سویت یونین کے مابین ہونے والی جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت کے امریکی صدر رونلڈ ریگن نے نہ صرف ان کو وائٹ ہاؤس دعوت دی بلکہ ان کا موازنہ امریکہ کے بانیوں کے ساتھ کیا

عمران خان نے کہا کہ نہ صرف امریکہ نے پاکستان میں 480 ڈرون حملے کیے بلکہ 2004 اور 2014 کے درمیان 50 مختلف عسکری گروپ پاکستان کی ریاست پر حملہ آور تھے.وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان کو اس قدر مشکلات کا سامنا محض اس لیے ہوا کیونکہ گلوبل وار آن ٹیرر میں پاکستان نے امریکی اتحاد میں شمولیت اختیار کی تھی لیکن تعریف کیے جانے کے بجائے پاکستان پر محض الزام تراشی کی جاتی ہے انہوں نے کہاکہ اگر دنیا یہ سمجھنا چاہتی ہے کہ طالبان اقتدار میں واپس کیوں آ گئے اور تین لاکھ افراد پر مشتمل افغان فوج نے ان کے خلاف لڑائی کیوں نہ کی تو جس لمحے اس کا تفصیلی تجزیہ کیا جائے گا تو دنیا کو معلوم ہوجائے گا کہ طالبان اقتدار میں واپس کیوں آئے ہیں اور یہ پاکستان کی وجہ سے نہیں ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں