دنیا پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک اور جنگ کو روکے، وزیراعظم کا جنرل اسمبلی سےخطاب

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ضروری ہے کہ دنیا پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک اور جنگ کو روکے۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 76 ویں اجلاس سےورچوئل خطاب میں انہوں نے کہا کہ بھارت کی فوجی تیاری، جدید جوہری ہتھیاروں کی تیاری اور عدم استحکام پیدا کرنے والی روایتی صلاحیتوں کا حصول دونوں ملکوں کے درمیان موجود ڈیٹیرنسس کو بے معنی کر سکتا ہے۔عمران خان نے کہا کہ گذشتہ فروری میں ہم نے کنٹرول لائن پرجنگ بندی کے 2003 کے معاہدے کا اعادہ کیا۔ امید یہ تھی کہ اس سے دہلی میں حکمت عملی پر دوبارہ غوروخوض ہوگا۔

انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بی جے پی کی حکومت نے کشمیر میں مظالم کی انتہا کر دی ہے۔ وہ اس بربریت سے ماحول کو بگاڑنے کی کوشش میں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اب یہ بھارت کی ذمہ داری ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ بامقصد اور نتیجہ خیز مذاکرات کیلئے سازگار ماحول بنائے اور اس کے لیے بھارت کو لازماً یہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پھر افغانستان کے ساتھ ملحقہ سرحد کے قبائلی علاقے میں جو پاکستان کا جزوی طور پر خود مختار علاقہ ہےاور جہاں ہماری آزادی کے وقت سے کوئی فوج تعینات نہیں کی گئی تھی اوران کی افغان طالبان کے ساتھ بہت زیادہ ہمدردی تھی اس لیے نہیں کہ ان کا مذہبی نظریہ ایک ہے بلکہ پشتون قومیت کی وجہ سے جو کہ بہت مضبوط تعلق ہے۔انہوں نے کہا کہ پھر 30 لاکھ افغان پناہ گزین اب بھی پاکستان میں تھے، وہ سب پشتون ہیں جو کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 5 لاکھ پناہ گزینوں کا سب سے بڑا کیمپ اورایک لاکھ افراد پر مشتمل کیمپس،ان سب کی افغان طالبان کے ساتھ ہمدردی تھی تو کیا ہوا؟وہ بھی پاکستان کے خلاف ہو گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی بار پاکستان میں عسکریت پسند طالبان سامنے آئے جنہوں نے پاکستانی حکومت پرحملے کیے اورہماری تاریخ میں فوج قبائلی علاقوں میں پہلی مرتبہ گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ جب بھی فوج شہری علاقوں میں جاتی ہے تو اس کے نتیجے میں بلا تخصیص نقصان ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلا تخصیص نقصان ہوا جس کے

نتیجے میں بدلہ لینے کیلئے عسکریت پسندوں کی تعداد دوگنی اور تگنی ہوگئی۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ دنیا کو معلوم ہونا چاہیے کہ امریکہ نے پاکستان پر480 حملے کیے اور سب جانتے ہیں کہ ڈرون حملے اپنے ہدف کو درست نشانہ نہیں لگا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ان عسکریت پسندوں کے مقابلے میں جن کو وہ نشانہ بنا رہے ہوتے ہیں زیادہ نقصان کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جن لوگوں کے پیارے مارے گئے انہوں نے پاکستان سے بدلہ لیا۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ 2004 اور 2014 کے درمیان 50 مختلف عسکری گروپس پاکستان کی ریاست پر حملہ آور تھے۔ انہوں نے کہا کہ ایک وقت تھا جب میرے جیسے لوگ پریشان تھے کہ کیا ہم اس صورتحال کا کامیابی سے مقابلہ کر لیں گے؟ انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں ہر طرف بم دھماکے ہو رہے تھے اور ہمارا دارالحکومت ایک قلعے کی مانند دکھائی دیتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہماری فوج نہ ہوتی جو کہ دنیا کہ انتہائی منظم افواج میں سے ایک ہے اور ہماری انٹیلی جنس ایجنسی بھی دنیا کی بہترین انٹیلی جنس

ایجنسیوں میں سے ایک ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ پاکستان نیچے چلا جاتا۔انہوں نے کہا کہ جب امریکہ میں انٹرپریٹرز وغیرہ اور ان لوگوں کے بارے میں جنہوں نے اس کی مدد کی پریشانی ظاہر کی جاتی ہے تو ہمارے بارے میں کیا خیال ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہم نے جو اس قدر مشکلات کا سامنا کیا ہے اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ ہم افغانستان کے خلاف جنگ میں امریکی اتحاد کے ساتھ تھے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ افغان سرزمین سے پاکستان پر حملے کیے جا رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے لیے کم از کم تعریف کا ایک لفظ ہی کہا جاتا لیکن جب سراہنے کی بجائے

تصور کریں کہ ہم پر افغانستان کے حوالے سے الزام تراشی کی جاتی ہے تو ہمیں کیسا محسوس ہوتا ہے؟وزیراعظم نے کہا کہ 2006 کے بعد یہ بات ہر اس کے لیے واضح تھی جو افغانستان کو سمجھتا ہے کہ افغانستان کے مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں امریکہ گیا اور میں نے تھنک ٹینکس کے ساتھ بات کی اور اس وقت سینیٹر بائیڈن، سینیٹر جان کیری اور سینیٹر جان ریڈ سے ملاقاتیں کیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ اس مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں ہے اور سیاسی حل ہی آگے بڑھنے کا راستہ ہے لیکن اس وقت کسی نے یہ بات نہ سمجھی اور بدقسمتی سے فوجی حل تلاش کرنے میں امریکہ نے غلطی کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں