موٹروے کا دلخراش واقعہ، نئے آئی جی پنجاب ملزمان تک پہنچ گئے،اہم ثبوت ڈھونڈ نکالا

لاہور(نیوز ڈیسک)گذشتہ روز عہدے کا چارج سنبھالنے والے آئی جی پنجاب انعام غنی کا کہنا ہے کہ خاتون سے زیادتی کرنے والے ملزمان کے گاؤں تک پہنچ گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جیسے ہی عہدے کا چارج لیا اس واقعے کا نوٹس لیا۔انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ ملزمان تک پہنچ جائیں۔ہم اس گاؤں تک تو پہنچ ہی گئے ہیں جہاں سے ملزمان کا تعلق ہے۔ہمیں ملزمان تک پہنچنے کے لیے ثبوت مل چکا ہے۔اٹک سے رحیم یار خان تک کوئی واقعہ ہوتا ہے تو پنجاب پولیس اس کی ذمہ دار ہے۔آئی جی پنجاب نے مزید کہا کہ میں کسی پر بوجھ نہیں ڈالوں گا۔یہ ہماری ذمہ داری ہے اور ہم ملزمان تک پہنچیں گے۔اس وقت یہ بحث نہیں ہونی چاہئیے کہ ذمے داری کس کی ہے۔ہم نے زیادتی کے واقعات میں ملزمان پکڑے اور انہیں سزائیں بھی دلوائیں۔متاثرہ فیملی کا پوری طرح سے

خیال رکھا جا رہا ہے۔اس حوالے سے سی سی پی او لاہور عمر شیخ کا کہنا تھا کہ خاتون رات ساڑھے 12 بجے گوجرانوالہ جانے کیلئے نکلی، خاتون کو گھر سے نکلتے وقت کم ازکم گاڑی میں پٹرول چیک کرنا چاہیے تھا، خاتون نے 15 پر کال کرنے کی بجائے اپنے بھائی کو فون کر کے اطلاع دی، خاتون کے بھائی نے 130 پر موٹروے پولیس کو فون کر کے کہا کہ اپنی موبائل بھجوائیں۔سی سی پی او لاہور کا کہنا جس جگہ یہ واقعہ ہوا وہاں 5 کلومیٹر کے علاقے میں 3 گاؤں ہیں، ملزمان کے گاڑی کا شیشہ توڑنے سے خون نکلا جس کی وجہ سے ہمارے پاس خون کا نمونہ موجود ہے، تحقیقات میں رورل اور اربن پولیس کی جدید تکنیک کا استعمال کیا جا رہا ہے، اطلاع ملتے ہی تحقیقات کا آغاز کر دیا تھا، 14 مشتبہ افراد زیر حراست ہیں، 48 گھنٹے میں ملزمان تک پہنچ جائیں گے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.