آرمی ایکٹ کی حمایت کے گناہ میں شامل نہیں تھی، مریم نواز کے بیان پر محمد زبیرکا حیران کن ردعمل

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)گذشتہ روز نائب صدر ن لیگ مریم نواز نے ایک اہم بیان دیا تھا جس نے تہلکہ مچا دیا تھا۔عدالت پیشی کے موقع پر صحافی نے مریم نواز سے سوال کیا کہ ایک ایکسٹینشن پہلے دی گئی تھی اور اب چئیرمین نیب کو دی جا رہی ہے اس پر کیا کہیں گی؟ جس کے بعد جواب میں مریم نواز نے کہا کہ پہلی والی ایکسٹینشن کے گناہ میں شریک نہیں تھی۔صحافی نے پوچھا کہ مسلم لیگ ن نے ووٹ تو دیا تھا جس پر مریم نواز نے جواب دیا میں اُس مسلم لیگ ن میں نہیں تھی۔مریم نواز کے اس بیان نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے، اسی حوالے سے ترجمان مریم نواز محمد زبیر کا بھی ردِعمل آیا ہے۔

پاکستان مسلم لیگ نے کے رہنما محمد زبیر کا نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہنا ہے کہ مریم نواز کا بیان بالکل واضح ہے۔آرمی چیف کو توسیع دینے کی فیصلہ سازی میں وہ شامل نہیں تھیں۔انہوں نے مزید کہا کہ گناہ کا لفظ ان کے منہ سے نکل گیا تھا وہ ایسا نہیں کہنا چاہتی تھیں۔ واضح رہے کہ عدالت نے حکومت کو آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کیلئے 6 ماہ کی مہلت دے تھی، حکومت نے آرمی ایکٹ میں ترمیم پارلیمنٹ سے کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔ مسلم لیگ ن نے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں آرمی ایکٹ پر حمایت کا غیر مشروط اعلان کیا تھا۔ن لیگ ذرائع کا کہنا تھا کہ نوازشریف کی ہدایات پر ن لیگ نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے لیے ووٹ دیا۔اس حوالے سے فیصلہ لندن میں کیا گیا تھا جب پارٹی کے سینئر رہنما وہاں گئے تھے۔لیگی رہنما خواجہ آصف نے کہا تھا کہ مسلم لیگ ن کی لیڈرشپ نے ہدایت واضح طور پر جاری کی تھیں کہ آرمی ایکٹ پر ترمیم میں کسی طرح کوئی رکاوٹ پیدا نہیں کرے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں