دورہ امریکہ میں سمن بھارتی وزیراعظم کے منہ پر طمانچہ سے کم نہیں ، سکھ فار جسٹس کے عہدیداران کا اعلان

نیویارک (نیوز ڈیسک)بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کے خلاف مین ہیٹن نیویارک کی فیڈرل کورٹ کی جانب سے جاری سمن نے سفارتی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ سمن ایک طرح کا بھارتی وزیراعظم کے منہ پر طمانچہ سے کم نہیں۔نارتھ امریکا میں سکھوں کی نمائندہ تنظیم سکھ فار جسٹس کے عہدیداران کا کہنا ہے کہ مودی جہاں بھی جائے گا ہم اس کا پیچھا کرتے رہیں گے۔نیو یارک کی فیڈرل کورٹ نے ایک ایسے وقت میں ثمن جاری کیا جب مودی آج 24 ستمبر کو واشنگٹن میں اور کل 25 ستبر کو اقوام متحدہ میں خطاب کرنے والے ہیں۔نیو یارک میں بھارتی

قونصلیٹ وکلاء کے ساتھ صلاح مشورے کر رہا ہے تاکہ جب بھارتی وزیراعظم میں آئیں تو انہیں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔معروف اسکالر ڈاکٹر امیر جیت سنگھ کا کہنا ہے کہ ہم کوشش کر رہے ہیں تاکہ تمام وسائل بروئے کار لاتے ہوئے کسی نہ کسی طرح سمن مودی کو نیویارک میں پکڑا دیں۔واضح رہے کہ دورہ امریکہ پر گئے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی مشکل میں پھنس گئے۔ نیویارک کی عدالت نے سکھوں کے قتل سے متعلق کیس میں بھارتی وزیراعظم کو سمن جاری کردیا۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے خلاف امریکہ کی ریاست نیویارک کے سدرن ڈسٹرک کورٹ کے جج جان کرونن نے سمن جاری کر دیا۔ سکھوں کی تنظیم ”سکھ فار جسٹس” نے 17 ستمبر 2021ء کو نیویارک کی عدالت میں کیس فائل کیا جس میں نریندر مودی کو فریق بنایا گیا ۔عدالت نے مجسٹریٹ جج کیتھرین پارکر کو کیس کا انچارج جج نامزد کر دیا اور دونوں فریقین جج کے سامنے پیش ہو سکتے ہیں۔اسی ضمن میں سکھوں کی تنظیم سکھ فار جسٹس نے ہندوستانی وزیراعظم کے دورہ امریکہ پہ بڑے احتجاج کی کال بھی دی ہے جب کہ کشمریوں کی جانب سے مودی کے خطاب کے دوران احتجاجی مظاہرہ کرنے کا اعلان کیا گیا ۔ بھارتی وزیر اعظم کے خلاف امریکہ اور دیگر ممالک میں قتل اور پر تشدد کارروائیوں کے خلاف مقدمات درج کرانے کا اعلان کیا گیا ہے جب کہ سکھوں کی تنظیم سکھ فار جسٹس کی جانب سے وائٹ ہاؤس سے لے کر اقوام متحدہ تک نریندر مودی کا پیچھا کرنے کا اعلان بھی کیا گیا۔اس حوالے سے سکھوں کی تنظیم

کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ کسانوں کے پر امن مظاہروں کے دوران 600 سے زائد افراد کو ریاست نے قتل کیا ہے۔ تنظیم کی جانب سے الزام عائد کیا گیا کہ ریاست نے پنجاب اور ہریانہ کے کسانوں پر ریاستی طاقت کا بے جا استعمال کرکے پرتشدد کارروائیاں کیں۔ تنظیم کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ صدر جو بائیڈن اور نائب صدر کمالہ ہیریس کو اس حوالے سے خطوط بھی لکھے گئے ہیں اور اراکین کانگریس کو بھی اعتماد میں لے رہے ہیں۔ تنظیم نے کہا کہ وہ مودی کے مظالم کے خلاف وائٹ ہاؤس سے رابطے میں ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں