ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم عمران خان اور ڈی جی آئی ایس آئی کی تعریفوں کے پل باندھ دئیے

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک )امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی افواج کے افغانستان سے محفوظ انخلا پر وزیراعظم عمران خان اور ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کی تعریفوں کے پل باندھ دئیے۔ایک انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ان کا پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کے ساتھ بہت اچھا تعلق تھا اور وہ انہیں دوست کہتے تھے، عمران خان ایک بہترین کھلاڑی تھے وہ کرکٹ کے مکی مینٹل تھے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے معاملے پر جوبائیڈن انتظامیہ کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ جب وہ صدر تھے تو پاکستان امریکا کی عزت کرتا تھا لیکن اب پاکستان امریکا کی بالکل عزت نہیں کرتا۔

قبل ازیں امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہاتھا کہ افغانستان میں دنیا کی سب سے بڑی فوجی شکست ہوئی ہے، بائیڈن انتظامیہ بری طرح ناکام ہوگئی۔میڈیارپورٹس کے مطابق ری پبلکن ریلی سے خطاب میں ڈونلڈ ٹرمپ صدر بائیڈن پر برس پڑے اور کہا کہ جوبائیڈن نے امریکی فوجیوں اور شہریوں کی زندگی خطرے میں ڈال دی، وہ افغانستان میں ناکام ہوگئے۔سابق صدر کا کہنا تھا کہ جوبائیڈن نے طالبان کو کھلا راستہ دیا اور انخلا کی کوئی منصوبہ بندی نہیں کی۔انہوں نے مزید کہا کہ بائیڈن سے دشمن خوفزدہ ہے اور نہ اس کی کوئی عزت کرتا ہے، افغانستان میں ہونے والی شکست دنیا کی سب سے بڑی فوجی شکست قرار پائی ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہاہے کہ مجھے اشرف غنی پر کبھی اعتماد نہیں تھا، میں کھل کر کہہ چکا ہوں کہ اشرف غنی فریبی اور دھوکے باز ہے۔امریکی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اشرف غنی اپنا تمام وقت امریکی سینیٹرز کی مہمان نوازی میں گزارتے رہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکی سینیٹرز اشرف غنی کی جیب میں تھے اور یہ ایک بڑا مسئلہ تھا۔ سابق امریکی صدر نے کہا کہ شک ہے اشرف غنی افغانستان سے نکلتے وقت اپنے ساتھ کیش لیکر گئے ہیں، میریشک کی وجہ اشرف غنی کا لائف اسٹائل اور ان کی رہائش گاہیں ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ مذاکرات میں ملا عبدالغنی برادر کو بتادیا تھا امریکی انخلا مشروط ہوگا، ملا برادر کو کہا تھا امریکی یا اتحادی پر حملہ ہوا تو طالبان رہنما کے گاوں پر بمباری ہوگی۔انہوں نے کہا کہ میں چاہتا تھا کہ طالبان اور افغان حکومت کے درمیان معاہدہ طے پا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں