عالمی طاقتیں افغانستان کے منجمد کیے گئے اربوں ڈالر کے اثاثے کو بحال کریں،شاہ محمود قریشی

نیویارک (نیوز ڈیسک)وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ عالمی برادری کو نازک موڑ پر افغانستان کو تنہا نہیں چھوڑنا چاہئیے۔ تفصیلات کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس میں شرکت کے لیے امریکہ کے شہر نیویارک پہنچ گئے۔ اس موقع پر صحافیوں سے ملاقات میں گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان سے مختلف ممالک کے شہریوں اور سفارتی عملے کے انخلا میں معاونت کی، وعدوں کی پاسداری طالبان کے بہتر مفاد میں ہے۔نیو یارک میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے یو این پریس نمائندگان کے وفد سے ملاقات میں کہا ہے کہ افغانوں نے 4 دہائیوں میں جنگ کا سامنا کیا۔

اب افغانستان میں قیام امن کی امید پیدا ہوئی ہے۔پر امن افغانستان خطے کے لیے فائدہ مند ثابت ہو گا۔ ہماری معیشت مزید مہاجرین کا بوجھ اٹھانے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ افغانستان میں صورت حال کشیدہ ہوئی تو پاکستان سب سے زیادہ متاثر ہو گا پاکستان افغانستان میں اجتماعیت کی حامل جامع حکومت کے قیام کا خواہاں ہے۔افغانستان میں امن و استحکام چاہتے ہیں۔وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ عالمی طاقتیں طالبان کے افغانستان پر قبضے کے بعد منجمد کیے گئے اربوں ڈالر کے اثاثے بحال کریں۔ ایک طرف آپ بحران کو روکنے کے لیے نئے سرے سے فنڈز جمع کر رہے ہیں اور دوسری جانب ان کے جو اثاثے ہیں وہ انہیں استعمال نہیں کر سکتے، اثاثے منجمد کرنا مسئلے کا حل نہیں ہے۔میں عالمی طاقتیں اپنی پالیسی کا ایک بار پھر جائزہ لیں اور اثاثے غیر منجمد کرنے کے بارے میں سوچیں، افغانستان کے منجمد اثاثوں کی بحالی اعتماد سازی کیلئے اہم اقدام ہو سکتا ہے۔ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے پاکستان ہاؤس نیویارک میں اقوام متحدہ کی کوریج پر مامور بین الاقوامی نشریاتی اداروں سے منسلک صحافیوں سے ملاقات کی، انہوں نے وزیر خارجہ نے اہم علاقائی و عالمی امور پر پاکستان کے نکتہ نظر کی وضاحت کے علاوہ افغانستان کی صورتحال پر تبادلہ خیال اور صحافیوں کے سوالات کے جواب بھی دیے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم نے افغانستان سے مختلف ممالک کے شہریوں، سفارتی عملے اور میڈیا نمائندگان کے انخلاء میں بھرپور معاونت کی، ہم گذشتہ چار دہائیوں سے اپنے محدود وسائل کے ساتھ عالمی برادری کی مالی

معاونت کے بغیر 30 لاکھ سے زیادہ افغان مہاجرین کی میزبانی کرتے آ رہے ہیں، ہماری معیشت مزید مہاجرین کا بوجھ اٹھانے کی متحمل نہیں ہو سکتی، اگر افغانستان میں صورتحال کشیدہ ہوتی ہے تو پاکستان سب سے زیادہ متاثر ہو گا۔انہوں نے کہا کہ طالبان رہنماوں کے ابتدائی بیانات حوصلہ افزا ہیں۔ افغانستان میں تبدیلی کے دوران بہت سے مثبت پہلو بھی سامنے آئے۔اس حالیہ تبدیلی کے دوران خون خرابے اور خانہ جنگی کا نہ ہونا مثبت پہلو ہے، طالبان کی طرف سے جنگ کے خاتمے، عام معافی کے اعلان، بنیادی انسانی حقوق کی پاسداری، خواتین کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے سامنے آنے

والے بیانات حوصلہ افزا ہیں، عالمی رائے کا احترام اور اپنے وعدوں کی پاسداری طالبان کے بہتر مفاد میں ہے۔پاکستان دیگر ہمسایوں کی طرح افغانستان میں اجتماعیت کی حامل جامع حکومت کے قیام کا خواہاں ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں مفاہمت کا عمل اجتماعیت کی حامل حکومت کے قیام کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا۔ پاک بھارت تعلقات پر بات کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اک بھارت تعلقات کے حوالے سے وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن کاوشوں میں شراکت داری کا خواہاں ہے،وزیر اعظم عمران خان نے منصب سنبھالنے کے بعد بھارت کو دعوت دی کہ اگر وہ

ایک قدم امن کی جانب بڑھائیں گے تو ہم دو بڑھائیں گے لیکن بھارت نے اس پیشکش کو قبول کرنے کی بجائے مقبوضہ جموں و کشمیر میں 5 اگست 2019 کے یک طرفہ اور غیر آئینی اقدامات کئے جس نے صورتحال کو مزید پیچیدہ کر دیا، ہم امن کے خواہاں ہیں آج بھی بھارت کے پاس آپشن موجود ہے اگر وہ خطے میں قیام امن کا خواہاں ہے تو کشمیریوں پر جاری مظالم کو بند کرے اور 5 اگست جیسے غیر آئینی اقدامات کو واپس لے۔واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا 76 واں سربراہی اجلاس آج سے شروع ہو گا۔ امریکی صدر جوبائیڈن آج جنرل اسمبلی اجلاس سے خطاب کریں گے۔ وزیر اعظم عمران خان 24 ستمبر کو جنرل اسمبلی کے اجلاس سے ورچوئل خطاب کریں گے۔وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی پانچ روزہ دورے پر نیویارک میں موجود ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں