جی 20 میں شامل ملک ارجنٹینا کا پاکستان سے بڑی تعداد میں جے ایف 17 تھنڈر طیارے خریدنے کا فیصلہ

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پاکستان کی دفاعی صنعت کیلئے آج تک کی سب سے بڑی کامیابی، دنیا کی طاقتور ترین تنظیم جی 20 میں شامل ملک ارجنٹینا کا پاکستان سے بڑی تعداد میں جے ایف 17 تھنڈر طیارے خریدنے کا فیصلہ۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان اور چین کی جانب سے مشترکہ طور پر تیار کیے جانے والے جنگی طیارے جے ایف 17 تھنڈر نے دنیا بھر میں دھوم مچا دی ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق جی 20 میں شامل ملک ارجنٹینا نے پاکستان سے جے ایف تھنڈر بلاک 3 طیاروں کی خریداری کا باقاعدہ فیصلہ کر لیا ہے۔ ارجنٹینا کی جانب سے پاکستان سے کل 12 بلاک 3 جے ایف 17 تھنڈر جنگی طیارے خریدے جائیں گے،

اس مقصد کیلئے ارجنٹینا کی حکومت نے 66 کروڑ ڈالرز سے زائد کے فنڈز بھی مختص کر دیے ہیں۔ارجنٹینا کی پارلیمنٹ سے طیاروں کی خریداری کے فیصلے کی منظوری ملنے کے بعد طیاروں حاصل کرنے کا عمل باقاعدہ طور پر شروع کر دیا جائے گا۔اس پیش رفت کو دفاعی ماہرین کی جانب سے پاکستان کی دفاعی صنعت کیلئے بہت بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان نے اس سے قبل رواں سال مئی میں با ضابطہ طور پر 03 جے ایف-17 تھنڈر طیارے نائیجیرین ایئر فورس کے حوالے بھی کیے تھے۔ پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس نے کرونا وباء سے درپیش چیلنجز کے باوجود رواں سال مارچ میں طے شدہ شیڈول کے مطابق طیارے نائیجیرین ایئر فورس کے حوالے کیے۔یاد رہے کہ پاکستان اور چین کے اشتراک سے تیار کیے جانے والے جنگی طیارے جے ایف 17 تھنڈر نے اچھی خاصی مقبولیت حاصل کر لی ہے۔ ذرائع کے مطابق اب تک کئی ممالک جے ایف 17 تھنڈر جنگی طیاروں کی خریداری میں دلچسپی کا اظہار کر چکے۔ بھارت کا دوست اور پڑوسی ملک میانمار بھی پاکستان سے جے ایف 17 تھنڈر جنگی طیارے خریدنے کا فیصلہ کر چکا ہے۔ جبکہ آذربائیجان اور ملائیشیا بھی پاکستان سے جے ایف 17 تھنڈر جنگی طیارے خریدیں گے۔نائیجیریا اور میانمار پاکستان سے جے ایف 17 تھنڈر طیارے خریدنے کا معاہدہ کر چکے۔ جبکہ ملائیشیا، آذربائیجان، مصر اور دیگر کچھ ممالک بھی جے ایف 17 تھنڈر جنگی طیاروں کی خریداری کیلئے جلد معاہدہ کرنے کیلئے کوشاں ہیں۔ جے ایف 17 تھنڈر جنگی طیاروں کی مانگ میں اس وقت سے زیادہ اضافہ ہوا ہے جب پاکستان نے بھارت کے جنگی طیاروں کو مار گرایا تھا۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں جے ایف 17 تھنڈر جنگی طیاروں کی فروخت سے پاکستان کو کثیر زرمبادلہ حاصل ہوگا۔ جبکہ پاکستان کی دفاعی صنعت کو بین الاقوامی سطح پر فروغ بھی ملے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں