ظلم کی انتہا، شیخوپورہ میں لڑکی کو والدین کے سامنے اجتماعی عصمت دری کا نشانہ بنا دیا گیا

شیخوپورہ (نیوز ڈیسک)ظلم کی انتہا ہو گئی، ڈاکوؤں نے والدین کے سامنے لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا دیا۔تفصیلات کے مطابق شیخوپورہ میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا ہے جہاں بھکھی کے علاقے میں تین ڈاکوؤں نے لڑکی کی عزت تار تار کر دی۔شیخوپورہ پولیس نے مقدمہ درج کرکے ڈکیتی اور اجتماعی زیادتی کے تینوں ملزمان کو گرفتار کر لیا۔مدعی مقدمہ کا کہنا ہے کہ ملزم رات کی تاریکی میں گھر میں داخل ہوئے۔سب گھر والوں کو کمرے میں بند کرکے لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا۔والدین رو رو کر منتیں کرتے رہے لیکن ڈاکوؤں کو ترس نہ آیا۔ذرائع کے مطابق ڈاکو گھر سے

نقدی اور دیگر قیمتی سامان بھی لوٹ کر لے گئے۔پولیس کے مطابق ڈاکوؤں نے اہلخانہ پر بھی تشدد کیا۔قبل ازیں ایک اور واقعے میں مانانوالہ میں 2 اوباش صفت ملزمان نے 13 سالہ بچی کو گن پوائنٹ پر اغوا کر کے اپنے تیسرے ساتھی کی مدد سے مبینہ طور پر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔مانانوالہ پولیس نے ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرکے کارروائی شروع کردی ہے تفصیلات کیمطابق مانانوالہ کے محلہ فیصل ٹاؤن گلی اعجاز شاہ والی کی رہاشی شبیر احمد کی 13 سالہ بیٹی فاطمہ بشیر گھر سے سودا سلف لینے کے لیئے نکلی تو دو موٹرسائیکل سوار اوباش صفت ملزمان نے گن پوائنٹ پر مزکورہ بچی کو اغوا کرکے موٹرسائیکل پر بٹھا کر قریبی نواب مارکیٹ کے عقب میں لے جا کر رات کی تاریکی میں اپنے تیسرے ساتھی کی مدد سے مبینہ طور پر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا ملزمان بچی کو برہنہ حالت میں چھوڑ کر سنگین نتائج کی دھمکیاں دیتے ہوئے فرار ہوگئے متاثرہ بچی کی والدہ ام کلثوم کی درخواست پر ایس ایچ او مانانوالہ جاوید ہاشمی نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ایک نامزد ملزم فیاض ولد الیاس اور دو نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کر کے کارروائی شروع کردی ہے ملزمان کی گرفتاری کے لیئے پولیس چھاپے مار رہی ہے ایس ایچ او مانانوالہ نے بتایا کہ مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بننے والی بچی فاطمہ کو ڈسٹرکٹ ہسپتال منتقل کر دیا ہے حتمی میڈیکل رپورٹ آنے پر میرٹ پر تفتیش کرکے ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں