لڑکا بننا چاہتی ہوں، لڑکی نے جنس تبدیلی کیلئے عدالت سے رجوع کر لیا

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) لڑکی نے جنسی تبدیلی کے لیے عدالت سے رجوع کر لیا۔تفصیلات کے مطابق لڑکی نے جنس تبدیلی کے تحت لڑکا بننے کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا ہے۔لڑکی نے اپنے وکیل عثمان وڑائچ کی وساطت سے عدالت میں درخواست دائر کی۔ہما نامی لڑکی جنس تبدیل کرکے لڑکا بننا چاہتی ہے۔درخواست میں استدعا کی گئی کہ فیملی ممبرز کو ہراساں کرنے سے روکنے اور جنڈر تبدیلی سے متعلق میڈیکل کی اجازت دی جائے۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ کون ہراساں کر رہے ہیں؟۔وکیل نے موقف اپنایا کہ درخواستگزار لڑکی کو فیملی کی طرف سے ہراساں کیے جانے کا سامنا ہے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دئیے کہ یہ تو پھر پرائیویٹ پرسن کا کیس ہے۔وکیل نے کہا کہ پٹشنر کے بھی رائٹس ہیں،بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔چیف جسٹس نے درخواست قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔واضح رہے کہ مارچ2018 میں بھی 27 سالہ لڑکی نے جنس تبدیلی کیلئے عدالت کا سہارا لیا تھا۔یسرا وحید کی جانب سے عدالت میں دائر کی گئی درخواست کی سماعت کے موقع پر احاطہ عدالت میں جہاں بعض لوگ اس کیس پر ہنستے رہے وہی پر موجود سینئر وکلاء سمیت مختلف مقدمات میں ہائی کورٹ آنے والے لوگوں نے دلچسب تبصرے بھی کئے کوئی اسے نفسیاتی مریضہ کہتے رہے جبکہ زیادہ تر لوگوں نے اسے کیس کے پیچھے اسلام مخالف غیر ملکی این جی اوز کی جانب اشارہ کیا۔میڈیکل فیلڈ سے تعلق رکھنے والے سینئر ڈاکٹر وں سے جنس تبدیلی کے آپریشن کے حوالے سے پوچھا گیا کہ تو انہوں نے انکشاف کیا کہ جنس تبدیلی کے آپریشن میں 20فیصد کامیابی کا امکان ہوتا ہے جبکہ آپریشن کے دوران 80 فیصد اموات ہو جاتی ہیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں 27 سالہ یسرا وحید نے درخواست دائر کی تھی کہ ڈاکٹروں نے جنس تبدیلی کیلئے ری اسائنمنٹ سرجری تجویز کی اور ڈاکٹروں کی جانب سے سرجری کی تجویز کے بعد سے وہ ذہنی اذیت کا شکار ہے لہذا عدالت تمام اداروں کو نام اور جنس کی تبدیلی کیلئے حکم جاری کرے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں