ملک میں تیل کے کنوئیں نہیں ، فواد چوہدری نے قیمتوں میں اضافے کے وجہ بتادی

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وفاقی وزیر فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں اب بھی خطے کے مقابلے میں کم ہیں۔انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں تیل کی قیمتیں اب بھی ریجن میں سب سےکم ہیں، یا تو تین سالوں میں تیل کے کنوئیں نکل آتے ورنہ ظاہر ہے جب آپ نے تیل باہر سے خریدنا ہے تو قیمت بڑھے گی تو قیمتیں بڑھیں گی، یہی اصول باقی درآمدات کیلئے ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اصل کامیابی یہ ہےکہ 75 فیصد آبادی کی آمدنی میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔گذشتہ روز وزارت خزانہ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 5 روپے سے زائد

کا اضافہ کرنے کی منظوری دی تھی۔ وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفیکیشن کے مطابق مٹی کے تیل کی قیمت میں 5 روپے 42 پیسے اور لائٹ اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 5 روپے 92 پیسے اضافے کی منظوری دی گئی ہے۔ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 5 روپے 1 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ۔ یوں پٹرول کی نئی قیمت 123 روپے 30 پیسے ، ہائی سپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت 120روپے 4 پیسے، لائٹ ڈیزل کی نئی قیمت 90 روپے 69 پیسے جبکہ مٹی کے تیل کی نئی قیمت 92 روپے 26 پیسے فی لٹر ہو گئی۔ وزارت خزانہ کی جانب سے اوگرا کی سمری میں دی گئی تھی تاہم تجویز کے برعکس پٹرول کی فی لیٹر قیمت میں اضافہ کیا گیا ہے۔اوگرا کی جانب سے فی لیٹر پٹرول کی قیمت میں 1 روپے اضافے کی تجویز دی گئی تھی تاہم وزارت خزانہ نے 5 روپے کا اضافہ کر دیا۔ اس حوالے سے میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ وزارت خزانہ نے پٹرول پر عائد لیوی میں اضافہ کر کے کل قیمت میں اضافہ کیا۔ 15 ستمبر تک وزارت خزانہ فی لیٹر پٹرول پر 1 روپے سے زائد لیوی وصول کر رہی تھی، تاہم اب 16 ستمبر سے فی لیٹر پٹرول پر 3 روپے سے زائد لیوی وصول کی جائے گی، اسی باعث پٹرول کی قیمت میں 1 روپے کی بجائے 5 روپے کا اضافہ کیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں