حکومت نے جلد نئی آٹو پالیسی لانے کا اعلان کر دیا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک )وفاقی حکموت نے نئی آٹو پالیسی لانے کا اعلان کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ نئی پالیسی کے مطابق اگر کمپنیاں بروقت گاڑیاں ڈیلیور نہیں کریں گی تو جُرمانہ ادا کرنا ہو گا۔ گاڑیوں سمیت تمام لگژری آئٹمز کو دیکھ رہے ہیں کہ اس کی درآمد میں کس طرح کمی لائے جاسکتی ہے تاکہ تجارتی خسارہ میں کمی ہوجائے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ زیادہ تر کار ساز صنعتیں یہاں پر گاڑیاں صرف اسمبل کرتی ہیں اور صرف 3 کمپنیوں کی اجارہ داری ہے، اس لیے اب ہم 7 کمپنیوں کو مارکیٹ میں لارہے

ہیں تاکہ کمپنیوں کے درمیان مسابقت کا رجحان پیدا ہوجائے۔ ان کا کہنا تھا کہ کورونا کی وجہ سے دنیا بھر میں پیداوار کم ہے، جس کی وجہ سے عالمی سطح پر مہنگائی کی لہر ہے۔پاکستان میں مہنگائی کی شرح دنیا بھر سے کم ہے، کچھ ممالک میں 50 فیصد سے زیادہ مہنگائی ہے مگر پاکستان میں ان کے مقابلے میں صرف 15 فیصد مہنگائی ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستانیوں پر مہنگائی کا زیادہ بوجھ اس لیے پڑا کیونکہ لوگوں کی آمدن میں اضافہ نہیں ہوا اور اس میں بڑا کردار آئی ایم ایف پروگرام کا ہے، اگر لوگوں کی آمدن میں اضافہ ہوتا تو پھر موجودہ مہنگائی اتنا بڑا مسئلہ نہیں تھا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ اس وقت ملک میں مہنگائی کی شرح 10 فیصد ہے جو پچھلے سال 18 فیصد تھی۔ وزیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا تھا کہ ہم نے عوام کو سہولت پہنچانے کے لیے مختلف اقدامات پر کام شروع کردیا ہے۔انہوں نے کہا کہ گندم کی مارکیٹ سے کم قیمت پر ریلیز شروع کردی ہے جس سے آٹے کی قیمت میں کمی ہوگی جبکہ اشیائے خور و نوش کی مد میں مستحق افراد کو کیش سبسڈی کا ایک پروگرام شروع کررہے ہیں جس پر 150 ارب روپے لاگت آئے گی۔ وزیرخزانہ شوکت ترین کا کہنا تھا کہ زرعی پیداوار میں مڈل مین کا منافع بہت زیادہ ہے، اس حوالے سے بھی کام کررہے ہیں جبکہ مستقبل کیلئے گودام اور کولڈ اسٹوریج کیلئے بھی بجٹ مختص کئے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاور سیکٹر میں خسارہ پر قابو پانے کیلئے بجلی کی قیمت بڑھانے سے مسئلہ ختم نہیں ہوگا ہمیں لائن لاسز کے حوالے سے کام کی ضرورت ہے۔

وزیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا تھا کہ جب تک نقصان میں جانے والے تمام اداروں کی نجکاری نہیں ہوگی حکومتی خسارہ ختم نہیں ہوگا۔ ٹیکس کے حوالے سے بات کرتے ہوئے شوکت ترین نے کہا کہ ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو بھی ٹیکس کے نظام میں لارہے ہیں اور غیر رجسٹرڈ 15 ملین لوگوں کے بھی اکاؤنٹس بنائے ہیں، جن تک نادرا اور ایف بی آر کے ذریعے پہنچا جائے گا۔وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس ریٹیل میں 18 ٹریلین روپے کی تجارت ہوتی ہے مگر ہمارے پاس رجسٹرڈ صرف ساڑھے تین ٹریلین ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مینوفیکچررز تو ٹیکس دے رہے ہیں مگر نیچے جاکر ٹیکس کلیکشن

ختم ہوجاتی ہے، ہمیں اس حوالے سے کام کرنا ہے۔ وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ہم نے سیلز ٹیکس کو 17 سے 10 فیصد پر لے کر آئے ہیں تاکہ ٹیکس نیٹ میں اضافہ ہوجائے۔ انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قمیتوں میں اضافے سے مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے، اس لیے ابھی قیمتوں کو عالمی سطح کے برابر لانے کا جلد کوئی ارادہ نہیں ہے۔ آئی ایم ایف کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر امریکہ سے تعلقات اچھے ہوجائیں تو آئی ایم ایف پروگرام کی شرائط میں نرمی بھی ہوسکتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں