ڈالر کی قیمت میں پھر اضافہ، امریکی کرنسی ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

لاہور (نیوز ڈیسک) پاکستانی کرنسی کی قدر میں مسلسل کمی دئکھنے میں آ رہی ہے جبکہ ڈالر کی قیمت میں ایک مرتبہ پھر اضافہ ہو گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق آج بدھ کے روز بھی پاکستانی کرنسی کی قدر میں ایک مرتبہ پھر کمی دیکھی گئی جس کے بعد انٹر بینک میں ایک ڈالر 169 روپے 63 پیسے کی سطح پر آگیا ۔ واضح رہے کہ گذشتہ 3 ماہ سے انٹر بینک اور اوپن مارکیٹ میں روپے کی قدر میں مسلسل کمی دیکھی جارہی ہے۔رواں مالی سال کے آغاز سے اب تک ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر 12 روپے سے زائد کم ہوچکی ہے۔ ڈالر کی قدر میں اضافے سے پاکستان کے قرضوں کا حجم بھی بڑھ رہا ہے۔

رواں مالی سال کے آغاز سے ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں 7.28 فیصد کی کمی آچکی ہے۔ دوسری جانب اسٹیٹ بینک نے روپے کی بے قدری روکنے کے لیے 3 ماہ کے دوران انٹربینک مارکیٹ میں 1.2 ارب ڈالر داخل کیے لیکن اس کا یہ اقدام بھی کامیاب نہ ہوسکا اور روپے کی قدر تاریخ کی کم ترین سطح تک گرگئی۔قومی اخبار ایکسپریس ٹربیون کے مطابق ایکسچینج مارکیٹ میں 1.2ارب انجیکٹ کرنے کا اقدام اسٹیٹ بینک، آئی ایم ایف اور وزارت خزانہ تینوں کی بیان کردہ پالیسیوں کے برخلاف ہے کیوں کہ تینوں کا دعویٰ ہے کہ روپے کی قدر کا تعین مارکیٹ کی قوتیں کرتی ہیں۔ حکومتی ذرائع نے ایکسپریس ٹریبیون کو بتایا کہ جون کے وسط سے رواں ماہ کے پہلے ہفتے تک مرکزی بینک نے اپنے ذخائر میں سے 1.2ارب ڈالر مارکیٹ میں داخل کیے ہیں۔ایک ہی دن میں سب سے زیادہ 10 کروڑ ڈالر جولائی میں اور پھر ایک دن میں ساڑھے 8کروڑ ڈالر اگست میں مارکیٹ کو دیے گئے۔ اسٹیٹ بینک کی جانب سے مارکیٹ میں ڈالر فراہم کرنے کے عمل کی وزارت خزانہ اور خود مرکزی بینک نے بھی تردید نہیں کی۔ اس سوال کے جواب میں کہ آیا اسٹیٹ بینک نے یہ قدم وزارت خزانہ کی رضامندی سے اٹھایا تھا۔ وزارت خزانہ نے کہا کہ فارن ایکسچینج مکمل طور پر اسٹیٹ بینک کی ذمے داری ہے اور فنانس ڈویژن اس میں مداخلت نہیں کرتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں