طالبان ایک حقیقت ہیں، ضروری نہیں کہ وہ ہمارے مشوروں پر چلیں،فاقی وزیر داخلہ شیخ رشید

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا کہ طالبان ایک حقیقت ہیں، ضروری نہیں کہ وہ ہمارے مشوروں پر چلیں۔ طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے سے متعلق سوال پر شیخ رشید کا کہنا تھا کہ ہم دنیا کی طرف دیکھ رہے ہیں، وزیراعظم جلد دوشنبے میں روسی صدر کے علاوہ ایرانی اور ازبک صدر سے ملاقات کریں گے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں وزیراعظم عمران خان اہم کردار ادا کر رہے ہیں، عمران خان نے اشرف غنی کو سمجھایا تھا لیکن وہ نہیں سمجھے، عمران خان نے مجھے کہا تھا کہ اشرف غنی کے ساتھ بہت برا ہو گا۔

گفتگو کے دوران شیخ رشید نے انکشاف کیا کہ طالبان کو کابینہ میں عبداللہ عبداللہ اور حامد کرزئی کو شامل کرنے کا کہا تھا جس پر انہوں نے جواب دیا کہ کیا آپ نواز شریف اور آصف علی زرداری کو اپنی کابینہ میں شامل کریں گے؟ وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان میں طالبان کے آنے سے بھارت کو بہت دھچکا لگا ہے۔پاکستان نے فیصلہ کیا ہے کہ افغانستان کو جو تعاون درکار ہو گا ہم کریں گے۔ جغرافیائی طور پر افغانستان کی پوزیشن بہت اہم ہے۔ خیال رہے کہ گذشتہ روز پاکستان نے افغانستان کو انسانی بنیادوں پر خوراک اور ادویات بھجوانے کا فیصلہ کیا تھا۔ دفتر خارجہ کے ترجمان عاصم افتخار نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امدادی سامان لے کر تین سی 130 طیارے افغانستان جا رہے ہیں، فضائی راستے سے فوری امداد کے بعد زمینی راستے سے امداد بھجوائی جائے گی۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ حکومت موجودہ مشکل صورتحال میں افغان بھائیوں کی امداد جاری رکھے گی، عالمی برادری بحران میں افغانستان کی انسانی بنیادوں پر امداد کے لیے کردار ادا کرے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں