پی ٹی آئی پنجاب حکومت نے کارناموں کی تشہیر کیلئے قومی اخبار میں چالیس صفحات پر مشتمل اشتہارات شائع کروادیئے

لاہور (نیوز ڈیسک)پاکستان تحریک انصاف نے اقتدار میں آنے سے قبل اور اقتدار میں آنے کے بعد بھی عوام کے ٹیکس کے پیسوں کے ضیاع پر سابقہ حکومتوں کو خوب آڑے ہاتھوں لیا۔ ترقیاتی منصوبوں ، سڑکوں اور اشتہارات پر پیسے ضائع کرنے پر سابقہ حکومتوں بالخصوص مسلم لیگ ن کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور عوام سے وعدہ کیا کہ کفایت شعاری پالیسی کے تحت پاکستان تحریک انصاف عوام کے ٹیکس کے پیسوں کی حفاظت کرے گی اور اسے ذاتی تشہیر اور پروٹوکولز پر خرچ نہیں کیا جائے گا۔پاکستان تحریک انصاف کے اقتدار کے پہلے چند ماہ تک تو سب اچھا کی رپورٹ دی گئی لیکن جوں

جوں وقت گزرتا گیا موجودہ حکومت کی شاہ خرچیوں کی تفصیلات بھی سامنے آنے لگیں جو پاکستان تحریک انصاف اور خود وزیراعظم عمران خان کے دعووں کی نفی تھی۔تاہم اب پنجاب حکومت کی جانب سے قومی اخبار میں چالیس صفحات پر مشتمل تشہیری سپیلیمنٹس شائع کروانے پر بزدار حکومت کو بھی آڑے ہاتھوں لیا جا رہا ہے۔قومی اخبار روزنامہ جنگ میں شائع کیا جانے والے یہ اشتہارات اور ان پر خرچ ہونے والی رقم پر سوالیہ نشان لگ گیا ۔ ان چالیس صفحات میں صرف اور صرف عثمان بزدار چھائے رہے اور صرف انہی کے کارنامے ، پریس کانفرنسز، انٹرویوز اور بیانات شائع کیے گئے اور ان کی تعریفوں کے پُل باندھے گئے ۔سوشل میڈیا صارفین نے بھی موجود حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ جو لوگ شہباز شریف اور مسلم لیگ ن کو اس بات کے طعنے دیتے تھے کہ وہ اخبارات اور جگہ جگہ اپنی تشہیر کرتے اور عوام کے پیسے کا غلط استعمال کرتے ہیں وہ آج خود کیوں یہ سب کر رہے ہیں؟ عمران خان جنہوں نے عوام کے ٹیکس کے پیسوں کی حفاظت کا ذمہ اُٹھایا تھا کیوں اُن کی ناک کے نیچے یہ سب کچھ ہو رہا ہے اور وہ خود خاموش ہیں؟ سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ سابقہ حکومتوں کو فضول خرچیوں کے طعنے دینے والے آج خود بھی اُنہی کے نقش قدم پر چل رہے ہیں جو ان کے لیے باعث شرمندگی ہے۔موجودہ حکومت نے بھی گذشتہ حکومتوں کی طرح عوام کے پیسے کو ذاتی پیسہ سمجھ کر استعمال کرنا شروع کر دیا ہے جو قابل مذمت ہے۔ بزدار حکومت کو چاہئیے کہ تشہیر کی بجائے اپنے کام کو

بہتر بنائیں تاکہ ان کا کام صرف اخبارات میں پیسے دے کر دئے جانے والے اشتہارات میں نہیں بلکہ حقیقی طور پر عوام کو بھی نظر آئے۔ سوشل میڈیا صارفین نے حکومتی نمائندوں سے سوال بھی کیا کہ آخر یہ کس کا پیسہ ہے جس کا بے دریغ استعمال کیا جا رہا ہے؟ تاہم اس حوالے سے تاحال کسی حکومتی نمائندے کا مؤقف سامنے نہیں آیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں