خاتون جج عائشہ ملک کی سپریم کورٹ میں تقرری پر وکلاء تنظیموں نے ہڑتال کیوں کی، معاملہ کھل کر سامنے آگیا

اسلام آباد(آن لائن)سپریم کورٹ آف پاکستان میں ججوں کی سینیارٹی کے اصول کے برعکس تقرر کا معاملہ شدت اختیار کر گیا، سپریم کورٹ آف پاکستان میں لاہور ہائی کورٹ کی جونئیر جج جسٹس عائشہ ملک کی تقرری پروکلاء تنظیموں کی طرف سے ہڑتال کی کال پر عدالتی نظام مفلوج ہو کر رہ گیا۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں لاہور ہائی کورٹ سے جونئیر جج جسٹس عائشہ ملک کی سپریم کورٹ میں بطور جج نامزدگی کی گئی جس پر ملک بھر کی وکلاء تنظیموں کی طرف سے خلاف قانون تقرری پر عدالتی بائیکاٹ کی کال دی گئی تھی جس کی وجہ سے اسلام آباد ہائی کورٹ اور ڈسٹرکٹ عدالتوں میں کیسز کی سماعت نہ ہو سکی۔

کیسز کی پیروی کرنے والے سائلین عدالتوں میں خوار ہوتے رہے، سائلین کا کہنا تھا کہ قانون کے مطابق ہونا چاہیے، وکلاء نے ہڑتال کرنی تھی تو ایک روز قبل اخبارات کے ذریعے آگاہ کر دیتے تاکہ سائلین عدالتوں میں نہ آئیں ، سپریم کورٹ میں خالی ہونے والی نشست پر صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی کی طرف سے سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس احمد علی ایم شیخ کی سپریم کورٹ میں ایک سال کے لیے تقرری کا نوٹیفیکیشن جاری ہونے کے بعد ان کی حلف برداری کی تقریب 17 اگست کو رکھی گئی تھی جسٹس احمد علی ایم شیخ کی طرف سے سپریم کورٹ کے ایڈہاک جج کا حلف اٹھانے سے انکار کر دیا تھا، انکار کی وجہ سندھ ہائی کورٹ میں سینیارٹی کے اعتبار سے پانچویں نمبر کے جج جسٹس محمد علی مظہر کی 16 اگست کو سپریم کورٹ کے مستقل جج کے طور پر حلف اٹھانا تھا، ان کے انکار کے بعد سپریم کورٹ نے لاہور ہائی کورٹ کی جونئیر جج جسٹس عائشہ ملک جو سینیارٹی میں چوتھے نمبر پر آتی ہیں کی بطور سپریم کورٹ ایڈہاک جج نامزدگی کی جس پر سپریم کورٹ میں ججوں کے تقرر کے معاملے میں سینیارٹی کو نظر انداز کرنے پر وکلائ کا نمائندہ تنظیموں میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی جس پر وکلاء تنظیموں نے ایک کنونشن 21 اگست کو کراچی میں رکھا تھا ،سپریم کورٹ میں ججوں کی تقرری کا معاملہ پہلی بار متنازعہ نہیں بنا ،عدلیہ کی تاریخ میں یہ مسئلہ پہلے بھی اعلیٰ سطح پر کشیدگی کی وجہ بن چکا ہے، پاکستان بار کونسل نے جسٹس عائشہ اے ملک کے ممکنہ تقرر کی بھی مخالفت کی ہے اور

اسے ان کے مطابق اس اصول کی خلاف ورزی قرار دیا ہے جس کے تحت ہائی کورٹ کے سینیئر جج ہی سپریم کورٹ میں تعینات ہو سکتے ہیں۔ وکلا تنظیموں کا موقف ہے کہ سپریم کورٹ میں تقرر کے معاملے پر سینیارٹی کے اصول کی مکمل پاسداری کی جائے اور جونیئر ججوں کو سینیارٹی کے برعکس سپریم کورٹ لے کر جانے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ وکلاء تنظیموں کی طرف سے خلاف قانون تقرری پر عدالتی بائیکاٹ کی کال دی گئی تھی جس کی وجہ سے اسلام آباد ہائی کورٹ اور ڈسٹرکٹ عدالتوں میں کیسز کی سماعت نہ ہو سکی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں