مینار پاکستان واقعہ ،گرفتار ملزم عدالت پیشی کے دوران ماں کے پیروں میں گر گیا

لاہور(نیوز ڈیسک) مینار پاکستان واقعہ میں گرفتار ملزم عدالت پیشی کے دوران ماں کے پیروں میں گر گیا۔تفصیلات کے مطابق لاہور کی سیشن کورٹ میں ٹک ٹاکرخاتون اور اس کے ساتھی کے خلاف اندارج مقدمہ کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ عدالت نے درخواست عدم پیروی پر خارج کردی ۔ٹک ٹاکرخاتون اور اس کے ساتھی کیخلاف اندراج مقدمہ کی درخواست میاں توصیف احمد کی جانب سے دی گئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ ٹک ٹاکر خاتون اور اس کا ساتھی پلان کے ساتھ مینار پاکستان گئے۔علاوہ ازیں گریٹر اقبال پارک کیس میں 6 ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا۔ جبکہ عدالت پیشی کے موقع پر

ایک ملزم اپنی ماں کے قدموں میں گر گیا۔ملزم ماں کے پاؤں میں گرکر معافیاں مانگتا رہا اور دہائیاں دیتا رہا کہ میں بے گناہ ہوں، پولیس نے جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا ہے۔ماں میں بے قصور ہوں جانے کس جرم کی پائی ہے۔واضح رہے کہ ٹک ٹاکر عائشہ اکرم دست درازی میں ایف آئی آر میں نامزد تمام 400 افراد ملوث نہیں ہیں۔لاہور کی ضلعی عدالت نے گریٹر اقبال پارک میں ٹک ٹاکر سے دست درازی کے کیس میں حراست میں لیے گئے 98 افراد کو رہا کرنے کا حکم دے دیا۔ جوڈیشل مجسٹریٹ حسن سرفراز چیمہ نے کیس پر سماعت کی جس میں عدالت کے روبرو 98 زیر حراست افراد کو جیل سے لا کر پیش کیا گیا۔ عدالت کو بتایا گیا کہ ملزمان کو گریٹر اقبال پارک میں خاتون سے دست درازی کے الزام میں حراست میں لیا گیا تھا اور مجموعی طور پر 104 افراد کو شناخت پریڈ کے لیے جیل بھیجا گیا تھا۔یاد رہے کہ 14 اگست کے روز سو سے زائد افراد پر مشتمل ایک ہجوم نے اس وقت خاتون پر حملہ کردیا تھا جب وہ اپنے یوٹیوب چینل کے لیے ویڈیو بنارہی تھیں۔ سوشل میڈیا پر اس واقعے کی گردش کرتی مختلف ویڈیوز میں متاثرہ لڑکی کو مدد کے لیے چیخ و پکار کرتے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ جس کے بعد وزیراعظم عمران خان سمیت دیگرسیاسی و سماجی شخصیات نے لڑکی پرہجوم کے حملے اورہراسانی کے افسوس ناک واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں