طالبان حکومت کیساتھ کام کرنے کو تیار ہیں ! امریکہ کی عقل ٹھکانے آگئی، حیران کن اعلان کردیا

واشنگٹن ٗ کابل (این این آئی)امریکی وزیرخارجہ انٹونی بلنکن نے کہا ہے کہ امریکا وعدے اور فرائض پورے کرنے پر طالبان حکومت کے ساتھ کام کر سکتا ہے بصورت دیگر ایسا نہیں ہوگا۔انٹونی بلنکن نے افغانستان کی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ میری امید اور امید سے بڑھ کر توقع یہ ہے کہ افغانستان کی آئندہ حکومت بنیادی (انسانی)حقوق برقرار رکھے گی، اور اگر وہ ایسا کرتی ہے تو، یہ وہ حکومت ہوگی جس کے ساتھ ہم کام کرسکتے ہیں ، اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو ہم ان کے ساتھ کام نہیں کریں گے۔امریکا کے طالبان کو تسلیم کرنےسے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ مکمل طور پر اس

پر انحصار کرتا ہے کہ وہ کیا کرتے ہیں نہ کہ اس پر کہ وہ کیا کہتے ہیں اور ہمارے اور باقی دنیا کے ساتھ ان کے تعلقات کی رفتار ان کے اقدامات پر منحصر ہے۔امریکی عہدیدار کا کہنا تھا کہ امریکا کو حکومت کی فہرست میں موجود کچھ افراد کی وابستگیوں اور ٹریک ریکارڈ پر تشویش ہے۔دوسری جانب افغانستان میں حکومت قائم کرنے والے طالبان کے ترجمان سہیل شاہین کا کہنا ہے کہ ہماری پالیسی چین سے اچھے تعلقات رکھنے کی ہے۔چینی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے کہا ہے کہ امید ہے کہ مستقبل میں افغانستان کی تعمیرِ نو کے لیے چین کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔انہوں نے کہا کہ امید ہے کہ افغانستان چین اور دیگر پڑوسی ممالک کے درمیان رابطے کا مرکز بن جائے گا۔ترجمان طالبان کا کہنا تھا کہ افغانستان کی سر زمین چین سمیت کسی بھی ملک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان کی تعمیرِ نو، معاشی ترقی اور بحالی کا کام شروع کرنا چاہتے ہیں۔سہیل شاہین کا یہ بھی کہنا تھا کہ افغانستان کی تعمیرِ نو کے آغاز کے لیے ملک میں استحکام ضروری ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں