ملک میں گیس کے نئے ذخائر دریافت ہوگئے

کراچی (نیوز ڈیسک)سندھ میں لطیف بلاک سے گیس کا نیا ذخیرہ دریافت کر لیا گیا۔تفصیلات کے مطابق سندھ میں گیس کے نئے ذخائر دریافت کیے گئے ہیں۔گیس کی تلاش کے لیے 11 ہزار 350 فٹ کھدائی کی گئی تھی۔ذخیرے سے 13.7ایم سی ایف ڈی گیس نکل رہی ہے۔گذشتہ روز بھی آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) نے صوبہ خیبرپختونخوا کے علاقہ ایف آر لکی مروت میں واقع کاواگڑھ فارمیشن پر اپنی مہارت اور کاوشوں سے ولی کنواں نمبر 1 پر گیس و کنڈنیسٹ کے بھاری ذخائر دریافت کیے تھے۔ولی ایکسپلوریشن لائسنس کے آپریٹر کی حیثیت سے اوجی ڈی سی ایل اس

ایکسپلوریشن بلاک میں 100 فیصد ورکنگ انٹرسٹ کی مالک ہے۔ تیل و گیس کے یہ بھاری ذخائر فرنٹیئر ریجن لکی مروت میں دریافت کیے گئے۔ولی کنواں نمبر 1 کا اسٹرکچر او جی ڈی سی ایل نے اپنے انجنئیرز کی مہارت کو بروئے کار لاتے ہوئے ڈرل اور ٹیسٹ کیا۔ رپورٹ کے مطابق ابتدائی طور پر 32/64 چوک سائز پر 2800 پی ایس آئی ویل ہیڈ فلوئنگ پریشر پر چیک کرنے کے بعدکنویں سے 11.361 ملین اسٹینڈرڈ کیوبک فٹ (ایم ایم سی ایف) یومیہ گیس اور 895 بیرل یومیہ کنڈنسیٹ کی پیداوار حاصل ہو گی۔یاد رہے کہ گذشتہ روز صوبہ خیبر پختونخوا میں تیل اور گیس کے ذخائر دریافت ہوئے تھے۔ کمپنی یومیہ11.361 ملین اسٹینڈرڈ مکعب فٹ گیس ،895 بیرل خام تیل فراہم کرے گی۔یاد رہے کہ رواں سال جنوری میں پاکستان میں تیل اور گیس کی دریافت سے متعلق رپورٹ جاری کی گئی ، رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کی دوسری سہ ماہی میں تیل کی پیداوار میں 6 فیصد کمی ہوئی۔رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ رواں مالی سال کی دوسری سہ ماہی میں گیس کی پیداوار میں 4 فیصد کمی ہوئی، دوسری سہ ماہی میں 5 آئل فیلڈز اور 4 گیس فیلڈز شامل ہوئیں۔ خام تیل کی پیداوار 6 فیصد کمی سے 76 ہزار 331 بیرل یومیہ پر آگئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں