تین سالوں میں پاکستان کی معیشت کا حجم 313 ارب ڈالر سے کم ہوکر 280 ارب ڈالر رہ گیا

لاہور(نیوز ڈیسک)پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز نے ایم ایس سی آئی انڈیکس میں پاکستان کی تنزلی پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ مورگن اسٹینلے کمپوزٹ انڈیکس میں پاکستانی مارکیٹ کی درجہ بندی ایمرجنگ سے کم کرکے فرنٹیئر مارکیٹس میں ہونے سے حکومت کی معاشی ناکامیوں کا بین الاقوامی سطح پر بھی پول کھل گیا ہے۔انہوںنے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت کی کامیاب معاشی حکمت عملیوں

کے سبب جون2016 میں پاکستان کو ابھرتی ہوئی مارکیٹ کی درجہ بندی ملی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ مالی سال 18-2017 کے مقا بلے میں گزشتہ 3 سالوں میں پاکستان کی معیشت کا حجم 313 ارب ڈالر سے کم ہوکر 280 ارب ڈالر رہ گیا ہے۔ جس تجارتی خسارے کو کم کرنے کا ڈھول پیٹا جاتا تھا وہ بھی 7 ارب 49کروڑ ڈالر سے تجاوز کرگیا۔مالی سال کے پہلے 2ماہ تجارتی خسارے میں تقریباً 120 فیصد اضافہ ہوا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں