فغانستان میں نئی طالبان کابینہ کے کئی ارکان پاکستانی علمی اداروں سے تعلیم یافتہ نکلے

کابل(این این آئی)افغانستان میں طالبان کی عبوری کابینہ میں ایسے اراکین شامل ہیں جو پاکستان کے دینی مدرسہ حقانیہ اکوڑہ خٹک سے تعلیم حاصل کر چکے ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق ان طالبان رہنمائوں میں ملا عبدالطیف منصور شامل ہیں جو زیادہ تر پاکستان میں مقیم رہے ۔ذرائع نے بتایا کہ ملا عبدالطیف منصور نے دارالعلوم حقانیہ سے تعلیم حاصل کی ۔ انھیں وزارتِ پانی و بجلی کا قلمدان دیا گیا ہے۔ذرائع کا کہنا تھا کہ مولانا عبدالباقی بھی دارالعلوم حقاینہ میں زیر تعلیم رہے ہیں۔ وہ وزیرِ تعلیم مقرر ہوئے ہیں جبکہ نجیب اللہ حقانی اس مدرسے سے فارغ التحصیل ہیں اور انھیں مواصلات کا قلمدان دیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ افغان طالبان کے ترجمان محمد نعیم بھی دارالعلوم حقانیہ سے فارغ التحصیل ہیں اور اس کے علاوہ انھوں نے انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد سے پی ایچ ڈی کر رکھی ہے۔افغان طالبان کے ترجمان سہیل شاہین بھی انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد میں زیر تعلیم رہے ہیں۔ محمد نعیم اور سہیل شاہین کو کابینہ میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔دوسری جانب نئی افغان حکومت پر تبصرہ کرتے ہوئے امریکی وزارت خارجہ نے کہاہے کہ اس حکومت میں اہم منصبوں پر کام کرنے کے لیے چنی گئی بعض شخصیات کی وابستگی اور ریکارڈتشویش کا باعث ہے۔ میڈیارپورٹس کے مطابق میڈیارپورٹس کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ نے ایک بیان میں کہاکہ سراج الدین کے حقانی نیٹ ورک کا نام دہشت گرد تنظیموں سے متعلق امریکی فہرست میں شامل ہے۔ امریکی ایف بی آئی سراج الدین کی جگہ کے بارے میں معلومات فراہم کرنے والے کے لیے پچاس لاکھ ڈالر کا انعام مقرر کر چکا ہے۔سراج الدین کے علاوہ نئی افغان حکومت میں 3 مزید وزرا کا تعلق حقانی نیٹ ورک سے ہے۔ یہ خلیل الرحمن حقانی (وزیر مہاجرین) ، عبدالباقی حقانی (وزیر اعلی تعلیم) اور نجیب اللہ حقانی (کمیونی کیشن اور ٹکنالوجی کے وزیر) ہیں۔نئی افغان حکومت کے سامنے دو بڑے چیلنج ہیں۔ پہلا بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا جانا اور دوسرا ملک کی لڑکھڑاتی معیشت کے سہارے کے واسطے بین الاقوامی امداد کے سلسلے کی بحالی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں