مظفرگڑھ ، خاتون پولیس افسر سے عصمت دری کا معاملہ نیا رخ اختیار کرگیا

مظفرگڑھ(نیوز ڈیسک)مظفرگڑھ میں خاتون پولیس افسر سے زیادتی کے معاملے نے نیارخ اختیار کرلیا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج نے معاملے کو نیا رنگ دے دیا ہے۔تفصیلات کے مطابق مظفرگڑھ میں لیڈی سب انسپکٹر کے مبینہ اغوا تشدد اور زیادتی کے الزامات کے معاملے میں تھانہ سٹی کی 4 ستمبر کی سی سی ٹی وی فوٹیج نے معاملے کو نیا رخ دیا ہے۔سی سی ٹی وی فوٹیج نے معاملے کی صداقت کے حوالے سے شکوک و شبہات کو بڑھا دیا ہے۔فوٹیج میں کار اور ملزم کو دیکھا جا سکتا ہے جبکہ فوٹیج میں تھانہ سٹی سے نکلتی ایک پولیس اہلکار کو کار میں اپنی مرضی سے بھی بیٹھتے دیکھا جا سکتا ہے۔

کار میں بیٹھنے والی اہلکار مقدمے کی مدعی لیڈی سب انسپکٹر ہی ہے۔سی سی ٹی وی فوٹیج کی تاریخ اور وقت بھی بتائے گئے واقعے کے حوالے سے میچ کرتے ہیں۔اور کار میں بیٹھنے والی خاتون کو عبایا اور اسکارف کا رنگ بھی وہی ہے جو لیڈی سب انسپکٹر کی میڈیکل رپورٹ میں درج ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آنے کے بعد خاتون کے ملزم سے سے تعلقات کے متعلق تحقیقات کی جا رہی ہے۔سی سی ٹی وی فوٹیج میں اغوا کے حوالے سے کوئی شواہد نظر نہیں آئے تاہم نئے حقائق سامنے آنے کے بعد کیس کی ن نئے پہلوؤں سے تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے۔یہاں واضح رہے کہ 3 روز قبل مظفرگڑھ میں خاتون پولیس افسر کو اغوا کے مبینہ طور پر زیادتی کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔جس کے بعد خاتون نے ملزمان کیخلاف مقدمہ درج کروایا تھا۔ خاتون سب انسپکٹر کی ابتدائی میڈیکل رپورٹ کےمطابق سب انسپکٹر پر تشدد ثابت ہوا ہے۔ رپورٹ میں زیادتی کےمعاملےکی تصدیق کےلئےنمونے فرانزک ٹیسٹ کے لئے بھجوانے کی سفارش کی گئی ہے،کیس میں گرفتار ملزم 4 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں