پاکستان میں قانون کی بالا دستی نہیں اس لئے قبضہ گروپ متحرک ہیں،وزیراعظم

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ سارے اکٹھے ہو کر کہتے ہیں این آراو دے دو، علیحدہ قانون بنا دو، پرویز مشرف نے انہیں این آر او دے کر بہت ظلم کیا، قانون کی حکمرانی نہ ہونے کی وجہ سے ملک پیچھے رہ گیا، مہذب معاشرہ طاقتور کو قانون کے نیچے لے کر آتا ہے۔ پرویزمشرف نے این آراودیکر سب سے بڑا جرم کیا، اب تو سارے اکٹھے ہوکر کہتے ہیں ہمیں این آراو دیں۔ملک میں خوشحالی اس وقت آئے گی جب قانون کی بالادستی ہوگی۔ اسلام آباد میں ڈسٹرکٹ کورٹس عمارت کے سنگ بنیاد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مجھے سب کچھ دیا سیاست میں آنے کی ضرورت نہیں تھی،

25 سال پہلے پارٹی کا آغازکیا تواس کا نام انصاف کی تحریک رکھا، سیاست میں اس لیے آیا کہ ملک کے لیے کچھ کرسکوں، خواہش تھی کہ تعلیم، صحت اورانصاف کا نظام مضبوط ہوں۔25 سال پہلے پارٹی کا نام تحریک انصاف رکھا، مجھے اللہ نے سب کچھ دیا، سیاست میں آنے کی ضرورت نہیں تھی، میرے پاس سب کچھ تھا لیکن ملکی صورتحال دیکھ کر سیاست میں آیا، 1985ء کے بعد ملک بڑی تیزی سے نیچے گیا، بنگلادیش اور بھارت پاکستان سے آگے نکل گئے، قانون کی حکمرانی نہ ہونے سے ہم پیچھے رہ گئے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ سیرت النبی ﷺ پرعمل سے ہمارے آدھے مسائل حل ہوجائیں گے، وہ قومیں آگے بڑھتی ہیں جہاں قانون کی بالادستی ہو۔قانون کی بالا دستی نہ ہونے سے ہم پیچھے رہ گئے۔ وزیراعظم عمران خان نے مزید کہا کہ عدلیہ آزادی کے وہ نتائج نہیں آئے جو آنے چاہیے تھے، طاقتور ہمیشہ قانون سے اوپر رہنا چاہتا ہے، اوورسیز پاکستانی ملک کا سب سے بڑا اثاثہ ہیں، تارکین وطن ملک میں پلاٹ لیں تو قبضہ ہو جاتا ہے، لندن میں قبضہ گروپ اس لیے نہیں کیونکہ وہاں قانون ہے۔ پاکستان کا سب سے بڑا اثاثہ اوورسیز پاکستانی ہیں، قانون کی وجہ سے برطانیہ میں قبضہ گروپ نہیں ہیں، پاکستان میں قانون کی بالا دستی نہیں اس لئے قبضہ گروپ متحرک ہیں۔ کمزورکو طاقتورسے تحفظ چاہیے ہوتا ہے، انصاف ملنے سے معاشرہ آزاد ہوجاتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں