ڈالر کی قیمت میں پھر اضافہ، سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

کراچی (نیوز ڈیسک) انٹر بینک میں ڈالر ایک سال کی بلند سطح کو چھو گیا۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق انٹربینک میں ڈالر 167 روپے 63 پیسے پر بند ہوا ہے۔انٹربینک میں ڈالر کی قدر میں 40 پیسے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ انٹر بینک اور مقامی اوپن کرنسی مارکیٹ میں پیر کو روپے کے مقابلے ڈالر کی قدر میں اضافے کا رجحان رہا ۔ فاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق انٹر بینک میں پیر کو روپے کے مقابلے ڈالر کی قدر میں25پیسے کا اضافہ ہوا جس سے ڈالر کی قیمت خرید166.90روپے سے بڑھ کر167.15روپے اور قیمت فروخت167روپے سے بڑھ کر167.25 روپے ہو گئی

اسی طرح مقامی اوپن کرنسی مارکیٹ میں20پیسے کے اضافے سے ڈالر کی قیمت خرید167.30روپے سے بڑھ کر167.60روپے اور قیمت فروخت167.60روپے سے بڑھ کر167.80روپے ہو گئی ۔ فاریکس رپورٹ کے مطابق یورو کی قیمت خرید 197.50روپے اور قیمت فروخت199روپے پر برقرا رہی جبکہ1.50روپے کے نمایاں اضافے سے برطانوی پونڈ کی قیمت خرید 230.50روپے سے بڑھ کر232روپے اور قیمت فروخت 232روپے سے بڑھ کر233.50روپے ہو گئی۔دوسری جانب ملکی برآمدات 8 سال بعد 25 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئیں، ریونیو 18 فیصد سے زیادہ بڑھنے کیساتھ ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح بھی نسبتا بہتر رہی۔وزیر خزانہ شوکت ترین پائیدار معاشی ترقی کیلئے ٹیکس ٹو جی ڈی پی 18 سے 25 فیصد تک لے جانے کیلئے پرعزم ہیں۔پاکستان کی برآمدات پیپلزپارٹی دور کے اختتام پر 25 ارب 11 کروڑ ڈالر تھیں، لیگی حکومت گئی تو حجم گھٹ کر 23 ارب ڈالر رہ گیا تھا، اس دوران درآمدات 60 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئیں اور تجارتی خسارہ تاریخ کی بلند ترین سطح 37.7 ارب ڈالر تک جا پہنچا۔پاکستان تحریک انصاف حکومت اپنے تیسرے سال کرونا وبا کے باوجود برآمدات ریکارڈ 25 ارب 30 کروڑ ڈالر تک لے جانے میں کامیاب رہی، اس سے قبل پیپلز پارٹی ہو یا ن لیگ کوئی بھی حکومت ایسا نہ کرسکی۔ عبدالرزاق دائود نے چند روز قبل اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ اب پاکستان میں برآمدات پر صحیح معنوں میں توجہ دے رہے ہیں، اس سال ہمارا گڈز اینڈ سروسز کی مد میں ٹارگٹ 38.7 ارب ڈالرز ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں