خواتین ٹیچرز کے پاس جانے سے پہلے دستک، پھر داخلہ، مناسب فاصلہ اورموبائل نمبر بھی نہیں مانگنا

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)سرکاری اسکول ٹیچر خواتین کی طرف سے کافی عرصے سے شکایات موصول ہو رہی تھیں اور بالآخر ان کی بھی سن لی گئی۔تازہ ترین اطلاع کے مطابق پنجاب میں خواتین ٹیچرز سے کیسا برتاؤ رکھنا ہے؟ سرکاری سکولوں کی مانیٹرنگ کرنے والوں کے لیے نیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا گیا۔نئے ضابطہ اخلاق میں کہا گیا ہے کہ ا سکولوں میں مانیٹرنگ ٹیم خواتین ٹیچرز کے کمرے میں جانے سے پہلے دستک دے،مانیٹرنگ ٹیموں کو خواتین ٹیچرز کے واش رومز میں جانے پر پابندی ہوگی۔مانیٹرنگ ٹیم خواتین ٹیچرز سے ان کے موبائل نمبر لینے سے اجتناب کرے گی،

خواتین ٹیچرز سے مناسب فاصلہ رکھ کر گفتگو کی جائے اور ایسی جگہ پر بات کریں جہاں دیگر عملہ بھی موجود ہو۔کسی بھی سکول کی مانیٹرنگ کے دوران کھانے پینے سے گریز کریں،مانیٹرنگ کرنے والے ایم ای اوز ضابطہ اخلاق پرعملدرآمد کو یقینی بنائیں۔یاد رہے کہ کچھ دن قبل پاکستان کی قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اجلاس میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ خواتین پارلیمنٹیرینز کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔کمیٹی اجلاس کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی کی خاتون رکن قومی اسمبلی ناز بلوچ نے بتایا کہ نامعلوم غیر ملکی نمبروں کے واٹس ایپ گروپ میں خواتین ارکان پارلیمنٹ کو شامل کرکے اس میں غیر اخلاقی مواد بھیجا گیا۔ناز بلوچ نے بتایا کہ چند دن قبل واٹس ایپ پر ایک نمبر سے کچھ میسجز موصول ہوئے جس کے بعد میں نے اس نمبر کو بلاک کر دیا تاہم کچھ دیر بعد اسی نمبر سے ایک واٹس ایپ گروپ تشکیل دیا گیا جس میں متعدد خواتین ارکان پارلیمنٹ جن کا تعلق اپوزیشن تھا اس گروپ میں شامل تھیں۔اس گروپ میں غیر اخلاقی مواد بھیجا گیا،ہم نے اس گروپ کو چھوڑا تو دوبارہ شامل کر دیا گیا۔ جس کے بعد ہم نے اس گروپ کو رپورٹ کیا۔ناز بلوچ کی شکایت پر کمیٹی نے جب پی ٹی اے سے جواب مانگا تو حکام نے کہا کہ پی ٹی اے پاکستانی ٹیلی کام کمپنیوں کے جاری کردہ نمبرز تو بلاک کر سکتی ہے لیکن غیر ملکی نمبرز کو بلاک کرنا پی ٹی اے کے اختیار میں نہیں ہے۔پی ٹی اے کے حکام نے بتایا کہ واٹس ایپ ایک او ٹی ٹی ایپ ہے جس کو استعمال کرنے کے لیے سیکیورٹی فیچرز صارف کے پاس ہیں۔ اس لیے اگر کسی نمبر سے میسج آتا ہے تو اسے بلاک اور رپورٹ کر دینا چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں