افغانستان کے بعد مقبوضہ کشمیر کی باری ۔۔۔!طالبان کا رخ بھارت کی طرف؟ کھلبلی مچ گئی

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں نیٹو افواج کے انخلاء کی وجہ سے بھارت اپنے آپکو غیر محفوظ سمجھ رہا ہے۔اس کو خدشہ ہے کہ طالبان آئندہ کچھ عرصہ کے بعد کشمیر کا رُخ کر سکتے ہیں۔بھارت سفارتی حلقوقں میں وزیر خارجہ ایس جے شنکر کی ناقص سفارتکاری پر سخت تنقید کی جا ری ہے،جے شنکر کو تبدیل کرنے کے لیے وزیراعظم نریندرا مودی پر دباؤ پڑھ رہا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت ان جالوں میں خود پھنستا جا رہا ہے جو اس نے اپنے دشمنوں کے خلاف بنائے تھے۔اس نے اپنی سالمیت اور معیشت کو بچانا ہے تو اس کو پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر کرنا ہوں گے۔

پاکستان اب بھارت کی واضح طور پر مجبور بن چکا ہے۔بھارتی مباحثوں میں کہا جا رہا ہے کہ امریکا افغانستان سے بھاگ گیا لیکن جاتے وقت بھارت کو پھنسا گیا۔ایک طرف پاکستان تو دوسری طرف چین ہے۔مودی سرکار کو زمینی حقائق جو جانتے ہوئے پاکستان کے ساتھ دوستی کا ہاتھ بڑھانا ہو گا۔واضح رہے کہ ترجمان افغان طالبان نے پاکستان کو دوسرا گھر قرار دیتے ہوئے بھارت کو خبردار کر دیا تھا۔ افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے واضح کیا ہے کہ پاکستان ہمارا دوسرا گھر ہے، اس کے خلاف اپنی سرزمین استعمال نہیں ہونے دیں گے۔اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کیخلاف روسی دور سے پروپیگنڈا ہو رہا ہے،،افغانستان میں پاکستان کیخلاف گڑبڑ کی کوشش کی گئی تو روکیں گے،کابل اپنے زوربازو سے فتح کیا، پاکستان کا اس میں کوئی کردار نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ امارات اسلامی کا افغانستان کے تمام علاقوں پر قبضہ ہے، طالبان نے افغانستان کے تمام علاقوں میں امن قائم کیا ہے۔ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ ہمیں بڑی تعداد میں افغانوں کی حمایت حاصل ہے، ہم ایسی حکومت بنائیں گے جس میں تمام افغان شامل ہوں۔ یہاں واضح رہے کہ ترجمان طالبان نے گزشتہ روز پریس کانفرنس میں بھی کہا تھا کہ یہ واضح ہے افغان سرزمین کسی کیخلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے، القاعدہ یا ٹی ٹی پی سے متعلق کوئی کمیشن نہیں بنااس کا مجھے معلوم نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں