برطانوی حکومت نے نواز شریف کی لندن آمد پر سوالات اٹھائے تو وفاقی حکومت نے کیا جواب بھجوادیا

لاہور(نیوز ڈیسک) سابق وزیراعظم نواز شریف کو طبی بنیادوں پر ملک سے باہر علاج کے لیے بھیجا گیا تھا۔تاپم اب حکومت نواز شریف کو واپس لانے کے لیے متحرک ہو چکی ہے لیکن ایسے میں ن لیگ کا موقف ہے کہ جب حکومت نے نواز شریف کو خود علاج کے باہر بھیجا تو پھر اب واپس لانے پر کیوں بضد ہے،کیونکہ ابھی تک تو نواز شریف کا علاج بھی مکمل نہیں ہوا۔اسی حوالے سے سینئرصحافی ارشاد بھٹی نے چونکا دینے والا انکشاف کیا ہے۔ارشاد بھٹی نے کہا کہ پچھلی سے پچھلی کابینہ میٹنگ میں وزیراعظم نے بیوروکریسی کو بٹھا کر گفتگو شروع کی جس میں نواز شریف کا معاملہ زیر بحث آیا۔

اس موقع پر بابر اعوان نے عمران خان کو کہا کہ ہمارے سپورٹر نواز شریف کو باہر بھیجنے پر سوال اٹھا رہے ہیں۔جس کے بعد شہزاد اکبر نے مکمل بریفنگ دی،اس بریفنگ میں پہلی بار یہ بات سامنے آئی کہ جب نواز شریف کو باہر بھیجا جا رہا تھا تو برطانوی حکومت نے حکومت پاکستان سے سوال کیا تھا کہ یہ قیدی ہے،یہ جیل میں ہے،یہ سزا یافتہ ہے تو یہ ہمارے پاس کیا کرنے آ رہا ہے۔جس کے بعد حکومت نے کابینہ کا فیصلہ،عدالت کا فیصلہ،اور نواز شریف کی میڈیکل ہسٹری انہیں بھجوائی اور کہا کہ نواز شریف کو انسانی اور طبی بنیادوں پر باہر بھجوایا جا رہا ہے۔۔واضح رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے نواز شریف کو سرینڈر کرنے کا حکم دیتے ہوئے عدالت کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا تھا ۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ نواز شریف کو ضمانت کے فیصلے پر پہلے عملدرآمد کر کے سرینڈر کرنا ہو گا ۔اسلام آباد ہائیکورٹ میں سابق وزیر اعظم نوازشریف کی طرف سے سزا معطل کیلئے دائر اپیل کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ پہلے تو یہ طے ہونا ہے کہ کیا نواز شریف جان بوجھ کر مفرور ہیں؟ نواز شریف کو پہلے کورٹ میں پیش ہونا ہے اس کے بعد اپیلوں پر سماعت آگے بڑھے گی کیونکہ یہ ایک جرم ہے کہ آپ عدالتی سماعت میں پیش نہیں ہوتے اور اس جرم کی سزا 3 سال ہے اس سلسلے میں عدالت ایک نیا کیس شروع کر سکتی ہے اور 3 سال تک سزا سنا سکتی ہے ۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ اگر سابق وزیراعظم ہسپتال میں زیرعلاج ہوں تو پھر صورتحال بالکل مختلف ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.