پاکستان کا غیر مشروط طور پر طالبان کی حکومت تسلیم کرنے کا اعلان

اسلام آباد( نیوز ڈیسک )پاکستان نے غیر مشروط طور پر طالبان کی حکومت تسلیم کرنے کا اعلان کردیا۔ تفصیلات کے مطابق ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار نے کہا ہے کہ افغانستان میں حکومت بنانے یا تسلیم کرنے کے لیے ہماری کوئی شرائط نہیں ہے ، ہم نے ہمیشہ سے افغان عوام کی قیادت میں امن اور حکومت کے کے قیام کی حمایت کی ہے ، پاکستان افغانستان سے انخلا کرنے والوں کو انسانی بنیادوں پر سہولت فراہم کر رہا ہے ، پاکستان پر سالوں سے مختلف گروپوں کی سرپرستی کے جو الزامات لگائے جا رہے ہیں انہیں یکسر مسترد کرتے ہیں ، پاکستان ہمیشہ کی طرح پرامن اور مستحکم

افغانستان کے لیے کوششیں جاری رکھے گا ، پاکستان افغانستان کے مسئلے پر دنیا سے رابطے میں ہے اور چاہتا ہے کہ دنیا افغانستان کو تنہا نہ چھوڑے ، یہ تاثر درست نہیں کہ اس وقت دنیا کو پاکستان کی ضرورت ہے تو ہم کچھ لے لیں۔انہوں نے کہا کہ حریت رہنماء سید علی گیلانی کی نماز جنازہ پر بھارتی جارحیت کی مذمت کرتے ہیں ، بھارت نے حریت رہنما سید علی گیلانی کے عزیز و اقارب کو نماز جنازہ میں شرکت سے روکا اور جنازے میں شرکت کرنے والوں پر طاقت کا استعمال کیا ، یہ بھارتی اقدام انسانی و مذہبی آزادی کی کھلی ورزی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارت دہشت گردی کے الزامات کی آڑ میں چھپنے کی کوشش کر رہا ہے جن کو ہم نے بارہا مسترد کیا ہے ، فیٹف کے حوالے سے ہم مثبت نتائج کے لیے پر امید ہیں ، برطانیہ کی طرف سے ریڈ لسٹ سے نکالنے کے لیے ہائی کمشنر کام کر رہے ہیں۔خیال رہے کہ افغانستان سے امریکہ کی واپسی کے بعد آج افغان حکومت بنائے جانے کا امکان ہے اور اس حوالے سے طالبان نے بعد نماز جمعہ کابل میں اہم اجلاس طلب کر لیا ہے ، طالبان کے آج ہونے والے اجلاس میں سربراہ حکومت اور کابینہ سے متعلق فیصلے کیے جانے کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق ملا ہیبت اللہ کو طالبان حکومت کا سپریم لیڈر جب کہ ملا عبدالغنی برادر کو حکومت کا سربراہ بنایا جائے گا ، قطر میں طالبان کے سیاسی دفتر کے ڈپٹی ڈائریکٹر شیر محمد عباس استانکزئی کو افغانستان کا وزیر خارجہ مقرر کیے جانے کا امکان ہے جب کہ ملا ضعیف کو پاکستان میں دوبارہ سفیر نامزد کیا جا سکتا ہے ، ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد اور سراج الدین حقانی کو بھی کابینہ میں شامل کیے جانے کا امکان ہے ، اس کے علاوہ طالبان کی حکومت میں عبداللہ عبداللہ، حامد کرزئی، گلبدین حکمت یار سمیت دیگر افغان رہنماؤں کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں