کراچی سے پنجاب آنیوالی ٹرین حادثے کا شکار، 5بوگیاں پٹری سے اتر گئیں

سکھر ( نیوز ڈیسک ) پاکستان ریلوے میں آئے روز حادثات معمول بنتے جارہے ہیں آج ایک اور حادثہ پیش آیا ہے جہاں کراچی سے ساہیوال آنے والی کارگو ٹرین کی 5 بوگیاں پٹری سے اتر گئیں۔ تفصیلات کے مطابق کراچی سے ساہیوال آنے والی کارگو ٹرین کی 5 بوگیاں روہڑی اور پنوعاقل کے درمیان اسٹیشن منڈو ڈیرو کے قریب پٹری سے اتریں ، جس کے باعث اپ ٹریک پر ٹرینوں کی آمدروفت معطل ہوگئی۔بتایا گیا ہے کہ مال گاڑی کی بوگیاں پٹری سےاترنے کے باعث قراقرم ، پاکستان ایکسپریس اوردیگرٹرینوں کو روہڑی اسٹیشن روک لیا گیا ، ٹریک کو بحال کرنے کے لئے امدادی کاموں کا آغاز کردیا گیا۔

خیال رہے کہ چند روز قبل صوبہ سندھ کے شہر نواب شاہ کے قریب پاکستان ریلوے کی مال گاڑی کے آئل ٹینکر سے لاکھوں روپے مالیت کا ہزاروں لیٹر تیل بہہ گیا ، تیل رسنے سے ریلوے ٹریک متاثر ہوا جس کے بعد ریلوے حکام نے ٹرینوں کی آمد و رفت معطل کردی ، پاکستان ریلوے کی مال گاڑی کراچی سے ملتان جا رہی تھی جس میں ہزاروں لیٹر فرنس آئل موجود تھا تاہم سفر کے دوران نوابشاہ کے قریب مال گاڑی کے آئل ٹینکر کے جوائنٹ کھل گئے ، جس پر ٹرین ڈرائیور ، اسسٹنٹ ڈرائیور ، گارڈ اور اسٹیشن کے عملے نے بہتے تیل کو روکنے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن ناکام رہے اور تقریباً تین گھنٹوں میں آئل ٹینکر سے سارا تیل بہہ گیا ، تیل کی مالیت 50 سے 60 لاکھ روپے کے درمیان بتائی گئی ہے۔ریلوے حکام کے مطابق تیل بہنے سے ریلوے ٹریک متاثر ہوا ، جس کی وجہ سے ٹرینوں کی آمد و رفت معطل کردی گئی ہے اور صفائی کا عمل جاری ہے ، تاثرہ بوگی کو گاڑی سے الگ کر کے منزل پر روانہ کر دیا جائے گا تاہم ڈبے سے تیل لیک ہونے کی تحقیقات کر رہے ہیں ، ریلوے کی ٹیکنیکل ٹیم بھی موقع پر پہنچ گئی ہے اور تیل بہنے کے واقعے کا جائزہ لیا جا رہا ہے جب کہ آئل ٹینکر سے بہنے والے تیل میں آگ لگنے کے خدشے کے پیش نظر سکیورٹی سخت کر دی گئی۔دوسری جانب معلوم ہوا ہے کہ محکمہ ریلوے کی تین سالہ کارکردگی انتہائی بری رہی، ریلوے کا سالانہ خسارہ بڑھ کر40 ارب کی سطح پر پہنچ گیا ہے،پی ٹی آئی حکومت کے تین سالہ دور میں57 مسافر ٹرینیں بند ہوچکی ہیں جبکہ صرف 85 چل ٹرینیں چل رہی ہیں ،

چلنے والی ٹرینوں میں70 نجی شعبے کے اشتراک سے چلانے کیلئے ٹینڈر جاری کیے جاچکے ہیں ، انجنوں کی تعداد 480 سے کم ہو کر 472، مسافر کوچز 460 سے کم ہو کر 380 جبکہ مال گاڑیوں کے ڈبے 2000 سے بھی کم رہ گئے ہیں۔رپورٹ کے مطابق ملازمین کی تعداد ایک لاکھ 20 ہزار سے کم ہو کر 72 ہزار رہ گی ہے، پنشنرز کی تعداد ایک لاکھ 15 ہزار سے بھی تجاوز کر گئی ، ریلوے ٹریک، پل اور سگنل سسٹم سمیت دیگر اثاثوں کا 60 فیصد حصہ خستہ حالی کا شکار ہے، ریلوے ٹریک پر 2 ہزار 382 مقامات پر پھاٹک نہیں ہیں، ٹرینوں کے درجنوں حادثات ہوئے، 2019ء میں تیزگام میں آتشزدگی اور جون2021 میں سکھر ڈویژن میں ٹیوں کے حادثے میں 150 سے زائد مسافر زندگی کی بازی ہار گئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں