طالبان کا نئی افغان حکومت میں خواتین کو نمائندگی دینے کا اعلان

کابل (نیوز ڈیسک) طالبان نے نئی افغان حکومت میں خواتین کو نمائندگی دینے کا اعلان کردیا۔ تفصیلات کے مطابق افغان طالبان رہنما شیر محمد عباس ستانکزئی نے کہا ہے کہ طالبان حکومت میں سرکاری اداروں میں خواتین کی نمائندگی ہوگی ، حکومت میں خواتین دفاتر میں کام کریں گی ، دنیا صورتحال سے فائدہ اُٹھائے اور طالبان حکومت کو تسلیم کرلے۔بی بی سی پشتو کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 40 سال میں پہلی بارگزشتہ 15 دنوں میں افغانستان میں کہیں جنگ نہیں ہوئی ، امریکہ سمیت یورپی یونین اور تمام ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں ، کابل ایئرپورٹ 2 دنوں میں دوبارہ بحال ہوجائے گا ،

کابل ایئرپورٹ کی بحالی اور مرمت پر 25 سے 30 ملین ڈالر اخراجات آئیں گے ، کابل ائیرپورٹ کی بحالی اور مرمت میں قطر اور ترکی مالی مدد کریں گے۔طالبان رہنماء نے کہا کہ جن افغانوں کے پاس قانونی دستاویزات ہوں گی انہیں باہر جانے دیا جائے گا ، بغیر پاسپورٹ اور ویزے کے کسی کو بھی ملک سے باہر نہیں جانے دیا جائے گا۔ علاوہ ازیں ترجمان افغان طالبان سہیل شاہین نے کہا ہے کہ ہمارا چیلنج داعش نہیں، غربت کا خاتمہ، امن اورمعیشت کی بہتری ہے، اگر داعش نے کوئی حملہ کیا تو اسلامی حکومت پر حملہ تصور ہوگا، افغانستان آزاد ہوگیا اورایک اسلامی نظام کیخلاف جہاد جائز نہیں ، اب افغانستان آزاد ہوگیا اورایک اسلامی نظام کےخلاف جہاد جائز نہیں ہے، داعش ہمارے لیے چیلنج نہیں، غربت کا خاتمہ، معیشت کی بہتری اور قیام امن ہمارے لیے چیلنجز ہیں، اگر داعش نے کوئی حملہ کیا تو وہ اسلامی حکومت کےخلاف اقدام تصور ہوگا، دوحہ معاہدے اس لیے کیا کہ غیرملکی قبضہ ختم ہو، غیرملکیوں کو نکالنے کیلئے ہم نے جہاد اورسیاسی راستہ بھی اختیار کیا، دوحہ معاہدے کے تحت غیرملکی افواج نے نکلنے کا فیصلہ کیا، حکومت کے قیام کے بعد قومی فوج کی تیاری پر بھرپور توجہ دینگے، دوحہ معاہدہ اس لیے کیا کہ غیرملکی قبضہ ختم ہو، اب کوئی جواز نہیں کہ کوئی اسلامی حکومت کےخلاف بغاوت کریں۔پاکستان کے ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ترجمان طالبان نے کہا کہ امریکا افغانستان میں بری طرح ناکام ہوا، افغانستان پر بری نظر رکھنے والے امریکی انجام کو دیکھیں ، اگر ہم سپر پاورز کو ہرا سکتے ہیں تو کوئی گروپ بھی ہمارے لیے مسئلہ نہیں ہے ، کابل سے جوحکم جاری ہوگا وہ پورے افغانستان پرلاگو ہوگا ، پہلے ہم بات چیت سے مسئلہ حل کرنا چاہتے ہیں ورنہ ہم میں ملٹری صلاحیت ہے، حقانی صاحب امارت اسلامی کے ڈپٹی امیر ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں