اخوت کے سربراہ ڈاکٹر امجد ثاقب کو ایشیاء کے سب سے بڑے ایوارڈ سے نوازدیاگیا

لاہور( این این آئی)ایشیائی نوبل پرائز ریمون میگ سائے سائے ایوارڈ پاکستان کے نام رہا، سال 2021 میں یہ براعظم ایشیا ء کا سب سے بڑا ایوارڈ پاکستان کی معروف سماجی شخصیت اخوت فائونڈیشن کے بانی ڈاکٹر امجد ثاقب کو پیش کیا گیا، ہر سال یہ اعزاز معاشرے سے غربت کے خاتمے اور ترقی کے لئے غیر معمولی کردار ادا کرنے والی شخصیات کو پیش کیا جا تا ہے۔ دنیا میں قرضِ حسنہ کا سب سے بڑا اخوت مائیکرو فنانس پروگرام کا آغاز 2001 میں ہوا، اب تک 150 ارب روپے کے بلاسود قرضوں کی تقسیم ہوچکی ہے۔ ان قرضوں سے مستفید افراد کی تعداد اڑھائی کروڑ (ہر گھر میں پانچ افراد)ہے۔

قرضوں کی شرح ریکوری 99 فیصد ہے۔ ملک کے سارے صوبوں بشمول گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور فاٹا کے 400 شہروں میں قرضوں کی تقسیم، ملک بھر میں سب سے کم انتظامی اخراجات، 4 ہزار سے زائد ملازمین، 800 سے زائد دفاتر اور 400 شہروں میں مکمل دیانت اور محنت سے یہ فرض انجام دیتے ہیں۔وفاقی حکومت کے علاوہ ہر صوبائی حکومت، حکومت گلگت بلتستان، آزاد کشمیر کے ساتھ تعاون اور باہمی منصوبے، اخوت کے مختلف شہروں میں 4 کالجز قائم ہیں، جس میں ایک ہزار سے زائد طلبا زیر تعلیم ہیں۔ اب تک 600 سے زائد طالب علم اخوت کالج یونیوسٹی سے فارغ التحصیل ہوچکے ہیں۔ ڈاکٹر امجد ثاقب نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے ایوار ڈ قوم کے نام کرتے ہوئے کہا کہ ایوارڈ کی نامزدگی میرے لیے اعزاز ہے، یہ ایوارڈ پاکستان کے ہر فرد کے سینے پر آویزاں ہے، ریمون میگ سائے سائے ایوارڈ میرا نہیں پاکستانی عوام کا ہے، ایوارڈ ملک اور عوام کے لیے ایک تحفہ ہے، سود سے بڑی لعنت اور کوئی نہیں، ہم سب نے مل کر ملکی ترقی میں کردار ادا کرنا ہے، پاکستان کی بین الاقوامی سطح پر پذیرائی ہوئی، وہ وقت دور نہیں جب ملک میں غربت ایک داستان بن جائے گی، ہمیں معاشرے سے سود کا خاتمہ کرنا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں