کابل سے مسافروں اور طیارے کو بحفاظت واپس لانے والے پی آئی اے پائلٹ کو انعام سے نوازدیاگیا

کراچی ( نیوز ڈیسک) کابل ائیرپورٹ سے غیر یقینی صورتحال میں مسافروں کے ساتھ پی آئی اے طیارہ پاکستان لانے والے کیپٹن مقصود بجارانی کی خدمات پر صدر مملکت کی جانب سے صدارتی گولڈ میڈل سے نوازا گیا۔صدر مملکت کی جانب سے کیپٹن بجارانی کو ان کی بہادری، پیشہ وارانہ مہارت اور مسافروں کو سلامتی کے ساتھ وطن لانے پر صدارتی گولڈ میڈل سے نوازا گیا، کپٹن نے ایئربس 320 کو ایئر ٹریفک کنٹرول کی رہنمائی کے بغیر ٹیک آف کیا تھا، طیارے میں مسافروں اور فضائی عملےکے ارکان موجود تھے، ایئرٹریفک کنٹرول نے کیپٹن بحارانی کو اپنی ذمہ داری پر فیصلہ کرنے کا کہا تھا۔

کیپٹن مقصود نے فائٹرز طیاروں کے پیچھے کامیاب ٹیک آف کیا تھا۔ اقدام پر پی آئی اے سمیت پائلٹس کی عالمی تنظیم نے بھی تعریفی خطوط جاری کئے ہیں۔کیپٹن مقصود بجارانی پی آئی اے کی پرواز پی کے 6252 کے کپتان تھے جس نے کابل ائیرپورٹ پر انتہائی خراب صورتحال میں پرواز بھری اور 170 مسافروں اور طیارے کو بحفاظت اسلام آباد لے آئے ،کابل ایئر پورٹ سے ٹیک آف کے وقت کیپٹن بجارانی کو کنٹرول ٹاور اور ایئر کنٹرولر کی رہنمائی بھی حاصل نہیں تھی ۔ حالات اس قدر تیزی سے خراب ہورہے تھے کہ پی آئی اے کے پائلٹ سے کہہ دیا گیا تھا کہ اپنا فیصلہ خود کریں ۔سی ای او پی آئی اے ایئر مارشل ارشد ملک نے ایئر لائن انتظامیہ کے ہمراہ کیپٹن مقصود بجارانی سے ملاقات کی اور ان کی کاررکردگی کی تعریف کی۔ ایئر مارشل ارشد ملک نے کہا کہ بحرانی صورت حال میں معاملہ فہمی، تجربے اور صلاحیتوں کو بروکارلانا کیپٹن مقصود بجارانی کے پروفیشنل ہونے کی نشانی ہے۔ ساوتھ ایشین اسٹریٹیجک اسٹے بلیٹی انسٹی ٹیوٹ کی ڈائریکٹر ڈاکٹر ماریا سلطان نے بھی ایک تقریب میں کیپٹن مقصود بجارانی کی غیرمعمولی کاررکردگی یادگاری شیلڈ پیش کی۔ کپٹن مقصود بجارانی پائلٹو ں تنظیم پالپا کے نائب صدر بھی ہیں ، پالپا نے کیپٹن مقصود بحارانی کو ان کی غیر معمولی کاررکردگی پر مبارک باد دی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں