امریکا نے 20 سال بعد کابل ایئرپورٹ خالی کردیا

کابل ( نیوز ڈیسک ) افغانستان چھوڑنے والے آخری امریکی فوجی کی تصویر جاری کر دی گئی۔تفسیلات کے مطابق آج 31اگست امریکہ کی افغانستان سے انخلا کا آخری دن تھا۔امریکہ اور اتحادیوں نے کوشش کی تھی کہ انخلا کی تاریخ بڑھا دی جائے مگر طالبان کی طرف سے دھمکی دی گئی تھی کہ اگر ڈیڈ لائن کے بعد امریکی یا اتحادی افواج افغانستان میں ہوئی تو نتائج کی ذمہ دار وہ خود ہوں گی۔لہٰذا ڈیڈ لائن بڑھانے کی بجائے امریکہ نے آج آخری روز ہی اپنا انخلا مکمل کر لیا۔امریکی وزارت دفاع نے ایک تصویر جاری کی ہے جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ افغانستان چھوڑنے والا آخری امریکی فوجی ہے۔

اس حوالے سے تفصیلات دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ میجر جنرل کرس ڈونا ہوہیں جو امریکا سے روانہ ہونے والے آخری سی 17 طیارے میں سوار ہونے لگے ہیں۔افغانستان چھوڑنے والے آخری امریکی فوجی کی تصویر بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے جس پر مختلف قسم کے تبصرے کیے جا رہے ہیں۔۔پینٹا گون نے بریفنگ دیتے ہوئے واضح کیا کہ تمام امریکی اہلکار افغانستان سے نکل چکے ہیں۔امریکی شہریوں کو لے کر آخری پانچ جہاز حامد کرزئی ایئرپورٹ سے نکلے ہیں۔جس کے ساتھ ہی امریکہ نے افغانستان سے اپنے انخلا کی تصدیق کر دی ہے۔یاد رہے کہ برطانیہ کا فضائی آپریشن مکمل ہوچکا ہے جس میں تمام شہریوں، سفارتی عملے اور فوجیوں کو واپس لایا جاچکا ہے۔ گذشتہ دو ہفتوں کے دوران افغانستان سے ایک لاکھ 10 ہزار سے زیادہ لوگوں کو خصوصی پروازوں کے ذریعے دوسرے ممالک میں منتقل کیا جاچکا ہے۔امریکی فوج نے افغانستان میں ڈرون حملوں کے ذریعے دولت اسلامیہ خراسان سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔جمعرات کو کابل ایئرپورٹ پر حملے میں کم از کم 170 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ دولت اسلامیہ خراسان نے اس کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ کئی افغان شہری اب ملک چھوڑنے کی کوششوں میں ہیں اور ایسے میں وہ افغانستان کے ساتھ پاکستان کی سرحد استعمال کرنا چاہتے ہیں۔جبکہ آج امریکیوں کے نکلتے ہی طالبان نے کابل ایئرپورٹ کی سکیورٹی اپنے ذمہ لے لی ہے یوں امریکی فوج کے قبضے میں موجود آخری علاقہ بھی اب طالبان کے کنٹرول میں ا ٓگیا ہے۔اس وقت افغانستان کا کوئی بھی قطعہ اراضی امریکیوں کے قبضے میں نہیں ہے۔ماسوائے پنجشیر کے جہاں افغان مزاحمت کاروں اور افغان طالبان کے درمیان گھمسان کی جنگ جاری ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں