پاکستان کے غیر ملکی قرضوں کا حجم تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا، حیران کن رپورٹ سامنے آگئی

اسلام آباد (آن لائن)وزارت خزانہ نے ملکی معیشت پر آوٹ لک رپورٹ جاری کردی۔رپورٹ کے مطابق ترسیلات زر، نان ٹیکس آمدنی اور براہ راست غیر ملکی سرمایہ میں کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ برآمدات،درآمدات، ایف بی آر محصولات میں اضافہ ہوا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں مہنگائی کی سالانہ شرح 8.4 فیصد رہی۔ مجموعی زرمبادلہ ذخائر 27ارب 30 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئے۔ڈالر کی شرح تبادلہ165.21روپے فی ڈالر کی سطح پر پہنچ گئی ہے، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، ٹیکس ریونیو 42.5 فیصد اضافے سے 414ارب روپے رہاجبکہ نان ٹیکس آمدنی میں 12.3 فیصد کمی ہوئی۔ وزرات خزانہ کی رپورٹ کے مطابق جولائی میں ترسیلات زر میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 2.1 فیصد کمی ہوئی۔

ملکی برآمدات 19اعشاریہ7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا،درآمدات میں 51اعشاریہ7 فیصد کا اضافہ ہوا، براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں 30اعشاریہ ایک فیصد کی کمی دیکھی گئی۔ بڑی صنعتوں کی شرح نمو جون 2021 میں 18.4فیصد تک پہنچ گئی۔نجی ٹی وی کے مطابق تحریک انصاف حکومت نے تین سال کے دوران 27 ارب ڈالر کے نئے قرضے لئے جبکہ انتالیس ارب ڈالر سے زائد کا قرض و سود ادا کیا۔ غیر ملکی قرضوں کا حجم تاریخ کی بلند ترین سطح 122 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق ایک سال کے دوران 9 ارب ڈالر کا غیرملکی قرضہ حاصل کیا گیاجبکہ 13 ارب 42 کروڑ ڈالر قرض و سود کی ادائیگی پر خرچ کئے گئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں