سینیٹر رحمان ملک کی پانچویں کتاب ٹاپ 100 انویسٹیگیشنز کی تقریب رونمائی

اسلام آباد(وہاب علوی سے)سابق وزیرِداخلہ و چیئرمین انسٹیٹیوٹ آف ریسرچ اینڈ ریفارمز سینیٹر رحمان ملک کی پانچویں کتاب “ٹاپ 100 انویسٹیگیشنز” کی تقریب رُونمائی آج اسلام آباد میں امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کی۔ تقریب کا اہتمام کورونا وائرس کیخلاف اختیاطی تدابیر کے مدنظر ویڈیو لنک کی ذریعے کی گئی۔ سینیٹر رحمان ملک کی کتاب 108 ابواب و 505 صفحات پر مشتمل ہے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ کتاب لکھنے کا مقصد عوام کو اہم تحقیقات اور قومی مسائل سے آگاہ کرنا تھا کیونکہ نئی نسل کو اپنی تاریخ، قومی و بین الاقومی مسائل سے باخبر رکھناہماری ذمہ داری ہے۔

رحمان ملک نے کہا کہ زندگی میں بہت سے قومی اور بین الاقوامی واقعات دیکھے جنکو قلم بند کرنا چاہا۔ انھوں نے کہا کہ بطور سرکاری ملازم، تفتیش کار اور پھر سیاستدان کے میرے زندگی کا سفر اتار چڑھاؤ سے بھرا رہا ہے اور میں نے زندگی میں حق کے لئے جنگ اور جہد مسلسل سیکھی ہے۔ حالات و واقعات کا مقابلہ ہمیشہ علم و عقل سے کرتا آیا ہوں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ علم طاقت ہے جو کامیابی کیطرف لے جاتی ہے۔رحمان ملک نے کہا ملک کے لیے ہمیشہ اچھا سوچا اور بہترین خدمت کرنے کی کوشش ہے اور زمانہ طالب علمی سے لکھ رہا ہوں جب جامعہ کراچی کی اسٹیٹکس سوسائٹی کے میگزین کا ایڈیٹر ان چیف تھا۔ انھوں نے کہا کہ سیکورٹی ، قومی مفاد ، سماجی ناانصافی ، انتہا پسندی ، دہشت گردی کے موضوعات پر مزید لکھنا چاہتا ہوں اور جلد اپ لوگوں کے سامنے نئے کتاب لاونگا۔ انھوں نے کہا پاکستان کے دشمن ممالک کی پالیسیوں کے اجاگر کرنا ہم سب پر فرض ہے اسلئے اپنی پہلی کتاب "مودی وار ڈاکٹرین” لکھی جس میں مودی اور آر ایس ایس کے ایجنڈے کو دنیا کے سامنے بے نقاب کیا اور مسئلہ کشمیر پر بہت لکھا ہے اور ہر فورم پر ان کے لیے آواز اٹھاتا رہا ہوں ۔ انھوں نے کہا کہ اسوقت ملک مشکل صورتحال سے گزر رہا ہے ہمیں باہمی اتفاق و اتحاد کی ضرورت ہے کہ مسائل پر ایک جامع پالیسی پیش کر سکے۔ رحمان ملک نے کہا کہ میری دوسری کتاب بلیڈنگ کشمیر میں بھارتی افواج کی ظلم و بربریت بیان کی ہے اور عالمی اداروں پر زور دیا ہے کہ مسئلہ کشمیر حل میں اقوام متحدہ کے سیکورٹی کونسل کے قرارداد نافذ کرے۔

رحمان ملک نے کہا کہ داعش ایک خطرناک دھشتگرد تنظیم بن کر ابھری ہے جو القاعدہ کی جگہ لے رہی ہے اور پہلے خطے میں داعش کی موجودگی اور پھر پاکستان میں اس کی موجودگی کا میں نے کہا۔ انھوں نے کہا کہ اپنی کتاب "داعش رائزنگ مونسٹر ورلڈوائڈ” میں داعش کی تشکیل اور عروج بیان کی ہے۔ کورونا وائرس پر بہت کم عرصے میں کتاب لکھی کہ قدرتی ہے یا بائیووارفئیر۔انھوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ “ٹاپ 100 انویسٹیگیشنز” میں شہید ذوالفقار علی بھٹو، شاہنواز بھٹو اور مرتضیٰ بھٹو اور محترمہ شہید بے نظیر بھٹو قتل کیسز کے تفصیلات موجود ہیں اور بہت سے سوالات کے جوابات دئیے گئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ امید ہے یہ کتاب تاریخ، اہم قومی و بین القوامی معاملات سمجھنے میں مددگار ثابت ہوگی۔ انھوں نے کہا کہ انکی تمام کتابوں کی فروخت کی آمدنی ’’ شہداء پاکستان ‘‘ کے لیے وقف ہے۔ سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ ہمارے مشرق و مغرب کی سرحدوں پر حالات غیر معمولی ہیں، کل امریکہ 20 سال بعد افغانستان سے انخلا کررہا ہے اور بتانا چاہتا ہوں کہ گولی کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتی۔ انھوں نے کہا کہ جیسے امریکہ اور نیٹو فورسز جس طرح کابل سے نکل رہی ہیں جلد ہی بھارت بھی کشمیر سے بھاگے گا اور آج سے چار سال پہلے بتایا تھا کہ پاکستان میں داعش موجود ہے،

امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رحمان ملک کی کاوش کو سراہتا ہوں۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں سچ بولنا، لکھنا بہت مشکل کام ہے اور رحمان ملک کے حوصلے اور محنت کو داد دیتا ہوں۔ انھوں نے کہا کہ اہم قومی و بین الاقوامی معاملات پر رحمان ملک کی کتاب حقیقت میں اس نظام کے خلاف ایف آئی آر ہے ۔انھوں نے کہا کہ امام حسین علیہ سلام نے جان و خاندان کا نذرانہ پیش کیا مگر سچ پر ڈٹ کر کھڑے رہے۔ انھوں نے کہا کہ قتل حسینء اصل میں مرگ یزید ہے، اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد ۔ تقریب سے دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا جن میں پروفیسر ایوب صابر، طاہر خلیل اور شفقت علی شامل تھے۔ تقریب کے اختتام پر مصنف رحمان ملک نے نامور صحافیوں اور دیگر شرکاء میں کتاب تقسیم کئے اور ان سب کا شکریہ ادا کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں