جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں،مجھے کچھ ہوا تو ذمہ دار کون ہوگا؟ام رباب نے بتادیا

دادو (نیوز ڈیسک)والد، چاچا اور دادا کے خون کے انصاف کیلئے قانونی جنگ لڑنے والی ام رباب کا کہنا ہے کہ نام نہاد سرداران کی جانب سے ان کی زندگی کو خطرہ لاحق ہے۔تفصیلات کے مطابق تمندار ہاؤس میہڑ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ام رباب چانڈیو نے بتایا کہ ہمارے کیس کی سماعت دادو کی کرمنل ٹرائل کورٹ ہوئی، عدالت سے واپسی پر نامزد ملزمان نے ہمیں ہراساں کیا۔ام رباب نے الزام عائد کیا کہ مقد مے میں نامزد ملزمان نے مجھے قتل کرنے کی کوشش کی، سماعت کے بعد ملزمان نے گاڑیوں میں ہمارا پیچھا کیا اور گاڑیوں کے زریعے راستہ تنگ کرکے ہمیں روڈ سے اتارنے کی کوشش کی،

مگر اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے ہم محفوظ رہے۔ والد، چاچا اور دادا کے قتل کا انصاف لینے والی ام رباب چانڈیو نے کہا کہ اعلیٰ حکام کو بتانا چاہتی ہوں کہ میری زندگی کو خطرہ ہے، مجھے اور فیملی کو کچھ ہوا تو ذمہ دار قتل میں نامزد سردار ہونگے۔یاد رہے کہ سندھ کے ضلع دادو کی تحصیل مہیٹر میں تین سال قبل مسلح افراد نے فائرنگ کر کے ایک ہی خاندان کے تین افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔مقتول کی بیٹی امِ رباب کی سندھ ہائی کورٹ کے باہر احتجاجاً ننگے پیر آنے کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس کے بعد اس کیس کو ہائی پروفائل قرار دیا گیا۔ام رباب کا دعویٰ ہے کہ اُن کے والد، دادا اور چچا کو پاکستان پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے اراکین صوبائی اسمبلی نے قتل کروایا۔گذشتہ دنوں والد، چاچا اور دادا کے خون کے انصاف کیلئے قانونی جنگ لڑنے والی ام رباب قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی انسانی حقوق کے اجلاس میں پھٹ پڑیں تھیں، ام رباب نے کمیٹی کو بتایا کہ تہرے قتل کیس میں نامزد ایم پی اے کی گرفتاری کے لیے پولیس نے چھاپہ مارا تو نثار کھوڑو حامی بن کر سامنے آگئے، ایس ایس پی کہتے ہیں کہ سندھ حکومت کا دباؤ ہے۔ام رباب نے کمیٹی کے شرکا سے سوال کیا کہ اس کیس میں مداخلت کیوں کی جارہی ہے؟سیاسی جماعتیں اس معاملے پرسیاست نہ کریں، بلاول بھٹو قائمہ کمیٹی کے چئیرمین ہیں،امید ہے کہ وہ نوٹس لیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں