آئی جی پنجاب شعیب دستگیر کا تبادلہ کر دیا گیا

لاہور(نیوز ڈیسک) آئی جی پنجاب شعیب دستگیر کا تبادلہ کر دیا گا۔2 سال کے دوران پنجاب کے پانچ آئی جی تبدیل ہوئے۔تفصیلات کے مطابق آئی جی پنجاب شعیب دستگیر کا تبادلہ کر دیا گیا جب کہ سی سی پی او لاہور کام جاری رکھیں گے۔دونوں کے درمیان شدید اختلافات پائے جا رہے تھے۔اختلافات کا آغاز اس وقت ہوا جب سی سی پی او نے افسران کو آئی جی کے حکم سے پہلے تمام معاملات اپنے علم میں لانے کی ہدایت کی۔جس پر آئی جی پنجاب شعیب دستگیر بھڑک اٹھے۔انہوں نے سی سی پی او کی معذرت قبول کرنے سے بھی انکار کر دیا۔ذرائع کے مطابق آئی جی پنجاب 3 روز سے آفس بھی نہیں آئے۔

آئی جی کی نظر میں یہ معاملہ شدید مس کنڈکٹ ہے۔دونوں افسران کی لڑائی کی خبریں وزیراعلیٰ پنجاب تک پہنچ گئی ہیں۔آئی جی پنجاب عثمان بزدار سے ملاقات کے لیے پہنچ گئے ۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ سی سی پی او کو بھی بلایا جائے۔دونوں کا موقف سننے کے بعد فیصلہ کیا جائے گا۔ پیر کے روز آئی جی پنجاب نے وزیراعلیٰ سے ملاقات کی اور اس دوران سی سی پی او کی بغیر مشاورت تعیناتی پر اعتراض کیا۔ آئی جی پنجاب نے کہا کہ سی سی پی او لاہور کو فوری تبدیل کیا جائے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے سی سی پی او لاہور کی تبدیلی سے معذرت کرلی۔ جبکہ آئی جی پنجاب نے بھی بات نہ ماننے پر کام کرنے سے انکار کردیا ہے۔بتایا گیا ہے کہ آئی جی پنجاب بغیر شیڈول وزیراعلیٰ سے ملاقات کرنے گئے۔ ملاقات میں آئی جی پنجاب نے سی سی پی او کی بغیر مشاورت تعیناتی پر اعتراض کیا ۔ سی سی پی او کی تعیناتی کے بعد آئی جی پنجاب اپنے دفتر نہیں گئے۔ دوسری طرف سی سی پی او لاہور عمر شیخ نے کہا کہ میرا آئی جی سے کوئی اختلاف نہیں۔ آئی جی پنجاب میرے سینئر افسر ہیں۔آئی جی مجھ سے جی پی ایس لوکیشن مانگیں تو ضرور دوں گا۔ میں ان کو بتانے کا پابند ہوں گا کہ میں کہاں کام کررہا ہوں۔واضح رہے آئی جی پنجاب کو سی سی پی او کی تعیناتی پر اعتراض تھا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.