اقبال گریٹر پارک ٹک ٹاکر کی مددکیلئے پہنچنے والے ڈولفن اہلکار کا بیان بھی سامنے آ گیا

لاہور (نیوز ڈیسک ) لاہور میں مینار پاکستان پر پیش آنے والے واقعے کے موقع پر مدد کے لیے پہنچنے والے ڈولفن اہلکار زمان قریشی کا بیان بھی سامنے آ گیا ہے۔انہوں نے نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اطلاع ملتے ہی روانہ ہو گئے تھے لیکن مینار پاکستان پر رش کی وجہ سے پہنچنے میں تیس منٹ لگ گئے۔مینار پاکستان گیٹ سے اسٹیج تک پہنچنے میں 30منٹ لگے۔500 سے 700 لوگوں نے لڑکی کو گھیرا ہوا تھا۔زمان قریشی نے بتایا کہ جب ہم پہنچے تو لڑکی برہنہ اور نیم بے ہوش تھی۔قریب موجود لڑکوں سے قمیض لے کر لڑکی کو پہنائی۔دوسری جانب گریٹراقبال پارک میں ہراساں

کی جانے والی خاتون عائشہ اکرم کا میڈیکل مکمل کرلیا گیا۔ عائشہ اکرم کا میڈیکل نوازشریف اسپتال یکی گیٹ میں کیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ رپورٹ میں میں خاتون کے جسم پر سوزش اور زخموں کے نشانات پائے گئے ہیں، کانوں پر نوچنے کے نشانات ہیں۔پولیس ذرائع کے مطابق خاتون ٹک ٹاکرکوہراساں کرنے والے 56 افراد کی تصاویر نادرا کو بھیج دی گئیں، واقعے میں زیر حراست 20 افراد کو تفتیش کے لیے سی آئی اے پولیس کے حوالے کیا گیا ہے، پولیس کو ان افراد کی شناخت کے لیے نادرا رپورٹ کا انتظار ہے، تمام افراد کو مینار پاکستان سے ملحقہ علاقوں سے حراست میں لیا گیا۔ تمام افراد کی تصاویر اور حاصل کردہ فوٹیجز سے بنائی گئیں جن کو شناخت کے لیے نادرا بھجوایا گیا ہے جس کی رپورٹ آج موصول ہونے امکان ہے۔اس متعلق عائشہ اکرم نے کہا کہ سیکڑوں افراد نے ان کے بال نوچے، بے لباس کیا، ہوا میں اچھالا گیا، پانی میں گرایا گیا، دو بار تو سانس تک بند ہوگئی تھی اور میں نے بچنے کی امید چھوڑ دی تھی، ہجوم دو ڈھائی گھنٹے تک ہراساں کرتا رہا۔ پولیس کو 2 سے 3 بار کال کی، تیسری بارکہا پلیز ہیلپ ،لیکن کوئی جواب نہیں ملا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں