طالبان سے کوئی دشمنی نہیں، بات چیت کیلئے تیار ہیں، امریکہ گھنٹوں کے بل آگیا، وزیر دفاع کا اہم اعلان

واشنگٹن (نیوز ڈیسک )امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن کا کہنا ہے کہ ہماری طالبان سے کوئی دشمنی نہیں، طالبان کمانڈر سے بات چیت کےلیے تیار ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار کے مطابق گزشتہ روز وزیر دفاع لائیڈ آسٹن اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل مارک ملی نے صدر جو بائیڈن کو افغانستان کی صورتحال سے متعلق بریفنگ دی جس میں امریکی شہریوں کے انخلا کو جلد مکمل کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس کے بعد ایک پریس کانفرنس میں امریکی چیف آف اسٹاف مارک ملی کا کہنا تھا کہ افغانستان میں صورتحال خطرناک ہے، ہمارا مقصد انخلا مکمل ہونے

تک کابل ائیرپورٹ کی سیکیورٹی کو برقرار رکھنا ہے تاہم اس دوران اگر طالبان نے حملہ کیا تو ان کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ کابل میں امریکی سفارت خانے کی سیکیورٹی کے لیے افواج ‘ اور ’ایف 17‘ جنگی طیاروں کے ساتھ ہر طرح کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔دوسری جانب جوبائیڈن انتظامیہ کی جانب سے طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد امریکی بینکوں میں موجود افغانستان کی حکومت کے تقریبا ساڑھے نو ارب ڈالر کے فنڈز منجمد کیے جانے کے بعد اب عالمی مالیاتی ادارے نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ افغانستان کو دی جانے والی امداد کو عارضی طور پر معطل کر رہے ہیں۔میڈیارپوٹس کے مطابق افغانستان کے سنٹرل بینک کے گورنر اجمل احمدی نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں افغانستان کے اثاثاجات کی تفصیلات بتائیں۔ انھوں نے کہا کہ طالبان ان کے عملے سے پوچھ رہے ہیں کہ یہ اثاثہ جات کہاں ہیں۔اس حوالے سے تفصیلات بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کے پاس گذشتہ ہفتے تک تقریبا نوارب ڈالر کے اثاثہ جات تھے مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ کابل کے سنٹرل بینک میں یہ رقم کیش کی صورت میں موجود ہو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں